Pakistan

سوال # 147399

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ اگر کوئی امام ایسے تعویذات کرتے ہیں کہ دو مسلمانو ں کے درمیان میں اختلاف پیدا کرتاہے او ایسا تغویذ بھی کرتاہے کہ دو اجنبی مرد اور عورت کے درمیان ناجائز تعلقات پیدا کرتا ہے اور اس کے علاوہ اجنبی عورتو ں پر دم درود بھی کرتاہے بغیر کوئی حجاب کے تو کیا اس امام کے پیچھے نماز صحیح ہیں یا نہیں؟مکمل وضاحت کرکے جواب دیں ۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے ۔

Published on: Jan 5, 2017

جواب # 147399

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 322-262/D=3/1438



 



(۱) جس طرح چغلی کرکے دو مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرنا گناہ کبیرہ ہے، اسی طرح اختلاف اور دشمنی پیدا کرنے کے لیے بلاوجہ شرعی کے تعویذ کرنا بھی گناہ کبیرہ ہے۔



(۲) اجنبی مرد وعورت کے درمیان ناجائز تعلقات پیدا کرنے کے لیے تعویذ کرنا بھی گناہ کبیرہ ہے۔ بلاحجاب اجنبی عورتوں پر تنہائی میں دم کرنا بھی گناہ ہے، ہاں عام جگہ میں اپنی نظر کی حفاظت کرتے ہوئے اگر مریض پر دم کردے تو ضرورةً اس کی گنجائش ہے۔



امام کو گناہ کبیرہ کے کام سے بالخصوص بچنا نہایت ضروری ہے، قال في الدر المختار: والأحق بالإمامة تقدیما بل نصبًا أي للإمام الراتب الأعلم بأحکام الصلاة․․․ بشرط اجتنابہ للفواحش الظاہرة (الدر مع الرد ج۲ص۲۹۴) صورت مسئولہ میں نمبر (۱) و (۲) کی باتیں محض ظن سے امام کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں لہٰذا امام صاحب کو احتیاطا ان امور (احکام) کی طرف متوجہ کردیا جائے تاکہ وہ خلاف شرع حرکت میں ملوّث ہونے سے بچ سکیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات