Pakistan

سوال # 146553

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں جب ہمارے معاشرے میں کوئی وفات ہوجا ئے تو چند دن بعد مردے کی وارث کے کہنے پر چند لوگ جمع ہوکر قرآن کریم پڑھ کر ایصال ثواب دیتا ہیں۔اس میں گھروالا ان پر خیرات وغیرہ کھلاتا بھی ہیں۔تو کیا یہ طریقہ اصحابہ کے دور میں تھا؟یہ طریقہ جائز ہے ؟اور تیسرا یہ کہ گھر والا تو خیرات کرکے ان پر بھی کھلاتا ہے . کیا قرآن کریم پڑھ نے پر کھانا کیسا ہے ؟یہاں پر گھر والے نے خیرات کی نیت پر بھی ان پر کھلایا؟

Published on: Nov 28, 2016

جواب # 146553

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 235-223/M=2/1438



میت کے لیے ایصال ثواب تو ثابت ہے لیکن اس کے لیے معاشرے میں جو طریقہ رائج ہے وہ مکروہ اور ناپسندیدہ ہے مثلاً مرنے کے تیسرے، دسویں یا چالیسویں دن ہی قرآن خوانی کرانے کو باعث ثواب سمجھتے ہیں یہ دن و تاریخ کی تعیین وتخصیص ثابت نہیں، اسی طرح اس کے لیے باضابطہ لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے اور پڑھنے والے پارہ جلد ختم کرنے کی فکر میں بہت تیز رفتاری سے پڑھتے ہیں اور قواعد تجوید کی رعایت نہیں کرتے اس سے بسا اوقات ثواب ملنے کے بجائے گناہ ہو جاتا ہے نیز ختم کے بعد ناشتہ کھانا وغیرہ کھلایا جاتا ہے نیز یہ کھلانا پلانا کبھی میت کے ترکہ سے ہوتا ہے جو درست نہیں اس لیے قرآن خوانی کا مروجہ اجتماعی طریقہ لائق ترک ہے، ایصال ثواب کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ انفرادی طور پر لوگ جب چاہیں اور جس قدر چاہیں تلاوت قرآن کرکے یا نفلی نمازیں پڑھ کر یا صدقہ خیرات کرکے ثواب میت کو بخش دیا کریں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات