India

سوال # 146240

عنوان : فتوی حوالہ آئی ڈی 242/77=TL/1430 کے ساتھ میں نے ایک فتوی پڑھااس فتوی آئی ڈی 242/77=TL/1430 کے تحت، تو میں نے دیکھا کہ سورہٴ مزمل گیارہ مرتبہ فجر کی نماز کے بعد پڑھنا ہے۔ ہماری مسجد میں ایک عمل (تبلیغی مشورہ اور دعوت، تعلیم، استقبال) ہوتاہے ، تو کیا میں سورہٴ مزمل کی تلاوت کرسکتا ہوں مذکور شدہ عمل کے اعتبار سے؟ (یعنی اشراق کے بعد) یا مجھے فجر کی نماز کے بعد فوراً پڑھنا ہے؟ گیارہ مرتبہ درود شریف اور گیارہ مرتبہ سورہ مزمل نیز گیارہ سو مرتبہ یَا مُغنِي اور گیارہ مرتبہ درود شریف، کیا یہ وظیفہ اس طرح پڑھنا صحیح ہے؟ اس طرح کے وظیفہ میں مذکورہ بالا فتوی کے تحت آپ کی اندرونی خوشحالی سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ میرا تقوی ہے؟ میں اپنے تقوی میں بڑوھتری چاہتا ہوں، کیا اس وظیفہ سے میرے تقوی میں اضافہ ہوگا؟ میرے برادر نسبتی آج کل نماز نہیں پڑھ رہے ہیں، اس سے پہلے وہ پانچوں وقت کی نماز پڑھتے تھے، مجھے نہیں معلوم کہ اسے کیا ہوگیا؟ کچھ دعا بتلائیے تاکہ وہ دوبارہ نماز پڑھ سکے۔ میں نے حصے خریدے، لیکن خسارہ ہوا ہے۔ کیا اس کے لیے کوئی دعا ہے؟

Published on: Dec 17, 2016

جواب # 146240

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 221-204/L=3/1438



(۱) بہتر یہی ہے کہ آپ یہ تمام اوراد بعد فجر متصلاً پڑھ لیں اور اگر آپ ایسا کرلیں کہ بعد نماز فجر گیارہ گیارہ مرتبہ اول و آخر درود شریف اور گیارہ مرتبہ سورہ مزمل بعد نماز فجر پڑھ لیں اور گیارہ گیارہ مرتبہ اول و آخر درود شریف پڑھ کر گیارہ سو گیارہ مرتبہ یَامُغْنِي بعد نماز عشاء پڑھ لیں تو ایسا بھی کرسکتے ہیں۔



(۲) آپ ان کو نماز کے فضائل بتاتے رہیں اور ان کے حق میں دعائیں کرتے رہیں۔



(۳) آپ نمبر (۱) میں مذکور عمل کرتے رہیں ان شاء اللہ نقصان نہ ہوگا اور اگر کبھی ہو بھی تو اس پر صبر سے کام لینا چاہئے یہ اللہ رب العزت کی طرف سے مومن کی آزمائش ہے اگر آدمی اس پر صبر کرتا ہے تو اس کے لیے خوشخبری قرآن میں موجود ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات