عقائد و ایمانیات - فرق ضالہ

India

سوال # 53935

ہمارے شہر رانچی کے نالا روڈ ہنرپیڑھی محلے کی مسجدانبیائکے ممبران شوری کی تعداد تقریبانو ہے جس میں سے ایک ممبر غیرمقلد ہو گیا ہے اور اس کے سارے گھر والے غیرمقلد ہو گے ء ہیں اورمسجد اہل حدیث کے کرتا دھرتا ہیں ہماری مسجد کا وہ ممبر جو غیرمقلد ہو گیا ہے وہ باہر سے برابر مسجد میں فتنہ کھڑا کرتا رہتا ہے اور لوگوں کو ورغلاتاہے جب کہ پورا محلہ دیوبندی جماعتیوں کا ہے اور مسجد میں بھی الحمدللہ اہل دیوبند جماعت والوں کی پکڑ کافی مضبوط ہے اب خطرہ یہ ہے کہ اگراس شخص کو شوری کا ممبر رہنے دیا جاتا ہے تو اس کے برے نتیجے سامنے آ سکتے ہیں جیسا کہ روز مرہ دیکہنے کو ملتا ہے جبکہ باقی سارے ممبران اہل دیوبند جماعتی ہیں تو کیا ایسی صورت حال میں اس شخص کو شوری کا ممبر رکھا جا سکتا ہے ؟

Published on: Aug 9, 2014

جواب # 53935

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 1152-1145/N=10/1435-U

فرقہ غیرمقلدین گمراہ اور اہل السنة والجماعة سے خارج ہے، لہٰذا آپ کی مسجد کی شوریٰ کا جو ممبر غیر مقلد بن گیا وہ راہ حق سے ہٹ گیا ہے، اللہ تعالیٰ اسے اوراس کے اہل خانہ کو ہدایت عطا فرمائیں، اور جب اس کو شوریٰ کا ممبر باقی رکھنے میں فتنہ کا اندیشہ ہے اورآئے دن یہ فتنہ کھڑا کرتا رہتا ہے تو اسے بلاشبہ شوریٰ کے ممبران سے خارج کرسکتے ہیں، درست ہے بلکہ خارج کردینا چاہیے تاکہ مسجد کا سارا نظام اہل السنة والجماعة کے ہاتھوں میں رہے اور لوگ بھی اس کے فتنہ سے محفوظ رہیں۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات