عقائد و ایمانیات - فرق ضالہ

India

سوال # 20213

ویب سائٹ پر پرچہ فتاویٰ جات مہدویہ فرقہ کے بارے میں ملاحظہ کیے لیکن ان میں سے ایک بھی تفصیل کے ساتھ ان کے عقائد کی ترجمانی نہیں کرتا، اسی طرح بنگلور کے ایک عالم مولوی انظر شاہ صاحب نے بھی ان کی تکفیر کی، آپنے ایک کتاب ہدیہ مہدویہ کا حوالہ بھی دیا ہے بہت کوشش کے بعد بھی وہ کتاب نہ مل سکی، اگر آپ نیٹ پر ڈلوادیں یا کوئی تفصیلی مضمون لکھ دیں جس سے لوگوں کو فائدہ ہوجائے کیوں کہ احباب کی زبانی معلوم ہوا ہے کہ بیرون ممالک یعنی خبر وغیرہ میں یہ کافی ہیں اور وہاں کے مقصود الحسن فیضی صاحب نے ان کی تردید میں بیان بھی کیا ہے۔

Published on: Mar 21, 2010

جواب # 20213

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی(ل): 408=128tl-3/1431


 


فرقہٴ مہدویہ میراں سید محمد جونپوری کی طرف منسوب ہے جو ۱۴/ جمادی الاولیٰ ۸۴۷ھ میں ہندوستان کے شہر جونپور میں پیدا ہوا۔ اس فرقے کے بہت سے گمراہ کن عقائد ہیں جو اہل سنت والجماعت کے عقائد سے بالکل مختلف ومتضاد ہیں، ذیل میں ان کے چند عقائد کا تذکرہ کیا جاتا ہے:


(۱) ان کا عقیدہ ہے کہ محمد جونپوری محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ تمام انبیاء سے افضل وبرتر ہیں، ان کے مذہب کی معتبر کتاب شواہد الولایت میں ہے: ?فضلش کہ برجمیع پیغمبر شد از خدا (اردو) تمام انبیاء پر افضل اس کو خدا نے کیا?(ص: ۳۲۴، بحوالہٴ مطالعہ مہدویت، ص:۴۰) ?بآنکہ ز تو جملہ مَضی وصبیح، شد زصفی تا کہ نزول مسیح? یعنی حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ تک تمام انبیاء آپ کے فیض حسن سے نورپائے ہوئے تھے۔ (ص: ۳۳۵، بحوالہ مطالعہ مہدویت: ۴۰)


(۲) ان کا عقیدہ ہے کہ محمد جونپوری اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پورے مسلمان ہیں اور ان کے سوا تمام انبیاء ناقص الاسلام ہیں، چناں چہ ان کی کتاب پنج فضائل میں ہے کہ: آدم علیہ السلام ناک کے نیچے سے بالائے سر تک مسلمان تھے۔ اور نوح علیہ السلان زیر حلق سے بالائے سر تک مسلمان تھے اور ابراہیم وموسیٰ علیہما السلام سینہ سے سرتک مسلمان تھے۔(ہدیہ مہدویہ ص:۱۹،بحوالہ فتاویٰ رحیمیہ: ۱/۱۸۰) شواہد الولایت کے صفحہ ۲۸۴ پر ہے کہ: ?تمام انبیاء ومرسلین میں صرف حضرات محمدین خاتمین (محمد نبی، محمد مہدی) ہی قطعی ویقینی طور پر مسلمانان تام ہیں? (مطالعہ مہدویت: ۳۷)۔


(۳) ان کا عقیدہ ہے کہ: سید محمد جونپوری رتبے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر ہیں، دونوں میں سر مو فرق نہیں۔ شواہد الولایت میں ہے: ?حضرات محمدین یعنی نبی اور مہدی کے درمیان کوئی فرق نہیں?۔ ?یہ خصوصیت حضرت امام آفاق کی ہے کہ اپنے متبوع (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ ولایت کی نشانیوں میں متحد (ہونے سے لے کر) اور تمام ذات وصفات (تک) جو اخلاق محمدی ہیں، قطعا ویقینا بہ ہمہ وجوہ موصوف تھے، کیونکہ مہدی موعود آپ کی ذات مبارک ہے?۔


?حضرات خاتمین (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور جونپوری) ذات وصفات موت وحیات میں بہر حالت ایک وجود تھے? دونوں کی کنیت ایک کرکے حق تعالیٰ نے تابع (یعنی محمد جونپوری) کو متبوع (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کے مرتبہ پر ظاہرا وباطناً پہنچادیا? (مطالعہ مہدویت، ص:۳۵/ ۱۷/ ۳۹/ ۴۱)


(۴) مہدیوں کا عقیدہ ہے کہ محمد جونپوری کے صحابہ انبیاء کے مقام تک پہنچے ہوئے تھے، بلکہ ان سے آگے بڑھ سکتے تھے۔ شواہدالولایت سے ایک حوالہ ملاحظہ ہو: ?کاہہ میں امام اولوالالباب کے چوراسی اصحاب واصل بحق ہوئے جن کو امام صاحب الزماں کی زبان مبارک سے مقامات انبیاء کی بشارت ملی ان میں خصوصاً ?بندگی میاں عزیز اللہ? اور ?میاں مخدوم? مبشر ہوئے․․․ ان دونوں کے حق میں فرمایا: ?اگر زندگی ہوتی تو ہردو حضرات ابراہیم سے اور آگے بڑھتے?۔ (ص:۱۹۴ مطالعہ مہدویت، ص:۳۲)


(۵) مہدوی حضرات اپنے امام کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ ایمان کے خزانے کے مالک اور اس پر حاکم ہیں، ہدایت کی توفیق ان کے ہاتھ میں ہے۔ شواہد الولایت (ص:۵۰) میں ہے کہ: ?پہلی مرتبہ ذات باری کی تجلی ہوئی، فرمایا کہ اے سید محمد تجھ کو ہم نے اپنی کتاب کا علم بخشا اور مراد اللہ کا علم تجھ کو عطا کیا ہے اور اہل ایمان پر تجھے حاکم گردانا ہے اورایمان کے خزانوں کی کنجی (ہدایت کی توفیق) تیرے ہاتھ دی․․․․ تیرا انکار ہمارا انکار اور ہمارا انکار تیرا انکار ہے (مطالعہ مہدویت، ص:۱۲)


(۶) ان کے نزدیک سید محمد جونپوری کی مہدویت کی تصدیق فرض ہے اور ان کی مہدویت کا انکار کفر ہے اور سن نوسو پانچ ہجری کے بعد جس قدر اہل اسلام مشرق سے مغرب تک اور جنوب سے شمال تک گذرے ہیں اور گذریں گے سب اس انکار کی وجہ سے کافر مطلق ہیں، مسلمان فقط مہدوی ہیں۔ (ہدیہ مہدویہ، ص:۱۷ بحوالہ فتاویٰ رحیمیہ: ۱/۱۷۹)


(۷) ان کا عقیدہ ہے کہ: ?میراں صاحب سید محمد جونپوری کے توسط کے بغیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی معرفت رب حاصل نہیں کرسکتے تھے? (شواہد الولایت، ص:۳۷۵، بحوالہ مطالعہ مہدویت: ۴۶)


(۸) محمد جونپوری نے ایک مرتبہ کہا: ?میں اللہ رب العالمین ہوں? (پنج فضائل ص:۵۵، بحوالہ مطالعہ مہدویت)


(۹) ایک مرتبہ وہ اپنے خلیفہ میاں نظام کو قرآن پڑھ رہا تھا اس اثنا میں ایک شخص ملاقات کے لیے آیا تو اشارہ سے روک دیا پھر روکنے کی وجہ بیان کی کہ ?تم جس وقت آئے تھے اس وقت خدا اپنے بندے کو اپنی زبان سے قرآن کی تعلیم دے رہا تھا? (نعوذ باللہ) اور آگے بڑھتے تو جلال الٰہی سے یقینا جل جاتے (پنج فضائل، ص:۶۸، بحوالہ مطالعہ مہدویت، ص:۵۷) فتاویٰ رحیمیہ، ہدیہ مہدویہ، مطالعہ مہدویت وغیرہ میں اس فرقہ کے گمراہ کن عقائد کا تفصیلی ذکر موجود ہے، یہ فرقہ اپنے ان عقائد باطلہ کی روشنی میں کافر ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات