عقائد و ایمانیات - فرق ضالہ

India

سوال # 19098



میں
ایک ہوٹل میں کام کرتا ہوں جس کا مالک شیعہ ہے اورمیں سنی ہوں۔ کبھی کبھی جب ہم
دوپہریا شام کا کھانا کھارہے ہوتے ہیں تو وہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہوجاتا ہے اور
میرے گلاس سے پانی پیتا ہے اور کبھی وہ اپنے پلیٹ میرے پلیٹ میں کچھ گوشت رکھتا
ہے، میں کیا کروں کیا میں اس کو کھا سکتا ہوں یا نہیں؟ اور جب وہ ہم کو فون کرے تو
کیا ان سے سلام کرکے بات شروع کرنا چاہیے یا نہیں؟ برائے کرم میری مدد فرماویں۔



Published on: Feb 11, 2010

جواب # 19098

بسم الله الرحمن الرحيم



فتوی(م):
183=183-2/1431



 



مالک
ہوٹل اگر رافضی خیال کا ہے تو اس کا گوشت کھانے سے احتراز کریں، مجبوری میں کبھی
صرف ساتھ کھانے کی نوبت آجائے اور آپ اپنا کھانا کھارہے ہیں، تو ایک دوبار میں
مضایقہ نہیں، اس کا معمول نہ بنائیں، اور سلام میں پہل نہ کریں، اگر وہ سلام کرے
تو جواب میں صرف وعلیک یا ہداک اللہ کہہ دیں۔




واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات