عقائد و ایمانیات - فرق ضالہ

Pakistan

سوال # 165

محترم المقام                                         السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ


 


میں حدیث میں وارد ہونے والے لفظ رافضہ/ روافض کے سلسلے میں جاننا چاہتا ہوں ۔ میں نے سنا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسی جماعت کی پیشین گوئی کی تھی جس کو بعد میں رافضہ/ روافض کہا جائے گا، وہ مشرک ہوں گے ، ان سے جہاد کرنا۔ اس سلسلے میں ایک شخص نے مجھے درج ذیل کتابوں کا حوالہ دیا ہے: مسند احمد ، کنزالعمال، طبرانی مجمع الزوائد، سوائد المحرقہ۔ میں عربی پڑھ اور بول نہیں سکتا۔ از راہ کرم، ان احادیث کی صحت کے بارے میں بتائیں۔ کیا یہ احادیث قابل قبول درجے کی ہیں؟


 


شکریہ!  والسلام

Published on: Apr 28, 2007

جواب # 165

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى: 360/ب=350/ب)


 


رافضہ یا روافض کے لفظ کے ساتھ کوئی پیشین گوئی حدیث میں ہماری نظر سے نہیں گذری۔ البتہ ان لوگوں نے ایسے ایسے عقیدے گھڑے جو قرآن و حدیث کے صریح خلاف ہیں، اس لیے علماء نے اس جماعت کا نام رافضی رکھا۔ رافضی کے معنی ہیں تارکِ اسلام۔ چونکہ انھوں نے اپنے عقائد باطلہ کی وجہ سے اسلام کو چھوڑدیا اس لیے انھیں رافضی کہا جاتا ہے۔ مثلاً ان کے عقائد میں سے یہ عقیدہ ہے کہ قرآن محرف ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی الوہیت کے قائل ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں۔ حضرت جبرئیل کو خائن کہتے ہیں یعنی وحی امام غائب کے پاس لانے کے بجائے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔ اپنے بارہ اماموں کے بارے میں ان کا عقیدہ ہے کہ ان کو اللہ کی طرف سے نیا دین دیا گیا اور آسمانی نئی کتاب دی گئی ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات