عقائد و ایمانیات - فرق ضالہ

Pakistan

سوال # 16143



کیا
درج ذیل عقائد کے حامل لوگ یا فرد ختم نبوت کا قرآن و سنت کے مطابق منکر تصور ہوں
گے؟ (
۱)جس
کا عقیدہ یہ ہو کہ امام انبیاء کی طرح معصوم ہوتے ہیں۔ (
۲)امام انبیاء (علیہم
السلام) کی طرح منصوص من اللہ ہوتے ہیں۔ (
۳)انبیاء علیہم السلام کی طرح اماموں
پر ایمان لانا فرض ہے اور ان کا انکار کفر ہے۔ (
۴)ائمہ کی غیر مشروط اطاعت
بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح فرض ہے۔ (
۵)انبیاء کی طرح ائمہ کو
معجزے عطا کئے جاتے ہیں جیسے معجزے نبی کی نبوت کی دلیل ہوتے ہیں، اسی طرح ائمہ
مردوں کو زندہ کرنے ، مادر زاد اندھے او رمبروص کو تبدیل کرنے کی او رانبیاء علیہم
السلام کی طرح تمام معجزوں کی قدرت رکھتے ہیں۔ (
۶)ائمہ پر وحی کا نزول
ہوتاہے۔ (
۷)ائمہ
کو تحلیل و تحریم کے اختیارات ہوتے ہیں۔ (
۸)ائمہ کو احکام کے منسوخ کرنے کے اختیارات
ہوتے ہیں۔(
۹)ائمہ
کا مرتبہ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر او ردیگر انبیاء علیہم
السلام سے بالا تر ہے۔ محترم مفتی صاحب بندہ نے درج بالا عقائد کے ایک گروہ سے
متعلق مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کتاب
بولتے حقائق میں مطالعہ کیا ہے۔ آپ میری یہ رہنمائی فرمائیں کہ ان عقائد کے حامل
شخص یا جماعت ختم نبوت کا قرآن و سنت کے مطابق قائل تصور ہوگا یا مشرک؟ کیا ہم بحیثیت
مسلمان ان عقائد کے حامل لوگوں کے ساتھ مسلمانوں والے باہمی معاشرتی تعلق رکھ سکتے
ہیں؟ جلد رہنمائی فرمائیں۔ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ اس سے پہلے یہی حوالا
جات تفصیل کے ساتھ مولانا یوسف لدھیانوی شہید کی کتاب شیعہ سنی اختلاف اور صراط
مستقیم میں بھی شائع ہوچکے ہیں۔ میرا ایک دوست جو کہ بذات خود سنی ہے اور وہ ان
حوالہ جات کو ایک مصنف کی رائے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتا، بلکہ وہ کہتاہے کہ اگر یہ
عقائد ختم نبوت کے عقائد کی نفی کرتے ہیں تو دارالعلوم دیوبند کے مفتیان کرام سے
تصدیق کرادو۔رہنمائی فرمائیں۔ والسلام



Published on: Oct 19, 2009

جواب # 16143

بسم الله الرحمن الرحيم



فتوی(د):1797=267k-10/1430



 



(۱ تا ۹) مندرج عقائد کے حامل لوگ
یا فرد صریح طور پر قرآن وسنت کے مطابق ختم نبوت کے منکر ہیں، کیونکہ یہ عقائد عقیدہٴ
ختم نبوت کی نفی کرتے ہیں۔ ان عقائد کے حامل لوگوں کے ساتھ معاشرتی تعلقات سے
اجتناب کرنا چاہیے، کیونکہ ایمان کے خطرہ میں پڑنے کا سخت اندیشہ ہے۔




واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات