عقائد و ایمانیات - فرق ضالہ

India

سوال # 149180

بعض جید علماء ایک جید عالم کو کافر کہتے ہیں او راس کے کفر میں شک کرنے والے کو بھی کافر کہتے ہیں، اس عالم کی کتاب میں ہلکا سا کفر نظر آتا ہے، لیکن وہ کچھ مسائل بتا رہے تھے اور ان کی نیت کفر کی نہیں تھی، اور بعض جید علماء اس کو کافر کہنے سے انکار کرتے ہیں، اب پریشانی یہ ہے کہ اگر کافر کہوں گا اور وہ کافر نہیں ہے تب میں کافر ہو جاوٴں گا اور کافر نہیں کہوں گا تب فتوی میں شک کرنے کی وجہ سے کافر ہو جاوٴں گا۔
(۱) اس معاملے سے بچنے کے لیے کیا میں سکوت اختیار کر سکتا ہوں؟ جیسے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے یزید کے معاملے میں کیا تھا ، کیا میرا یہ عمل قرآن و حدیث اور فقہائے احناف کے حوالے سے صحیح ہے؟ آیات و احادیث کا قول پیش کریں۔
(۲) سکوت کے معنی کیا ہیں اور یہ کب استعمال کیا جاتا ہے؟
(۳) ایسا تذبذب والا کفر کا مسئلہ کبھی پیش آجائے تو کیا اس کا حل قرآن و حدیث اور فقہاء نے بتایا ہے؟
ایک راہ حق کا مسافر ہوں رحم کریں اور تفصیل سے جواب دیں۔ جزاک اللہ

Published on: Apr 16, 2017

جواب # 149180

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 664-703/Sn=7/1438



(۱، ۲، ۳) ”سکوت وتوقف“ کا مطلب یہ ہے کہ مختلف الجہات مسئلے میں کسی ”جہت“ سے متعلق کوئی رائے ظاہر نہ کی جائے، اس کا محل وہ مسائل ہیں جن میں دونوں طرف دلائل موجود ہوں اورکسی ایک طرف کے دلائل کو راجح اور دوسری طرف دلائل کو مرجوح نہ قراردیا جاسکے۔ اور جو مسئلہ اس نوعیت کا نہ ہو؛ بلکہ اس کی ایک جہت مرجوح اور دوسری راجح ہو، نہ ہو تو ”راجح“ کی تائید کرنا بالخصوص اہل علم کے لیے ضروری ہے؛ تاکہ لوگوں کے سامنے حق واضح ہوجائے، سوال ہذا کی ابتداء میں اگر آپ کا اشارہ احمد رضا خاں صاحب اور ان کے ہمنواوٴں کے علمائے دیوبند کے حوالے سے موقف کی بات ہے تو اس مسئلے میں سکوت اختیار کرنا جائز نہیں ہے؛ بلکہ ان کے موقف سے براء ت اور ا ہل حق علمائے دیوبند کی تائید ضروری ہے؛ کیوں کہ احمد رضاخان صاحب اور ان کے ہمنواوٴں نے جو بات کہی وہ بدیہی البطلان ہے، اس موضوع پر کئی کتابیں آچکی ہیں مثلاً ”عباراتِ اکابر“ اسی طرح ”المہند علی المفند“ میں بھی ”بریلوی“ صاحبان کی الزام تراشیوں کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے اور اس میں علمائے دیوبند کے عقائد بھی مذکور ہیں جن کی تائید علمائے حرمین نے بھی کی ہے۔ بہرحال ضرورت پر ان کے باطل موقف کو بلاوجہ باطل نہ کہنا بھی اس کی خاموش تائید نیز مداہنت فی الدین ہے جو جائز نہیں ہے۔ اگر آپ کی مراد کچھ اور ہے تو اس کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال کیا جائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات