عبادات - احکام میت

India

سوال # 69763

میرا سوال یہ ہے کہ میرے والد پانچ چھ مہینے تک صاحب فراش تھے اور پھر ان کا انتقال ہوگیا، پانچ چھ سال تک وہ نماز پڑھنے پر قادر نہیں تھے ، اس مدت میں ایک نماز کا فدیہ چالیس روپیہ ہے تو پانچ نمازوں کا فدیہ دوسوروپئے ہوا اور پورے چھ مہینوں کی نمازوں کا فدیہ 36000 روپئے ہوا ۔ میں یہ جاننا چاہوں گا کہ میرے پڑوس میں ایک شخص ہے جس کے دو بھائی اور ایک بہن ہیں، وہ صاحب نصاب نہیں ہے، ان کا گھر بری حالت میں ہے تو کیا میں یہ رقم اس کے گھر کی مرمت کے لئے دے سکتاہوں؟

Published on: Oct 22, 2016

جواب # 69763

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 1356-1367/N=1/1438

(۱): پنجوقتہ نمازوں کی طرح وتر کا بھی فدیہ ہوتا ہے ؛ اس لیے ۲۴/ گھنٹے میں کل چھ نمازوں کا فدیہ ہوگا، اور کسی مرحوم کی جانب سے نمازیا روزہ کا فدیہ وصیت کی صورت میں( تہائی ترکہ سے)واجب ہوتا ہے اور اگر مرحوم نے وصیت نہ کی ہو تو مرحوم کی جانب سے فدیہ کی ادائیگی واجب نہیں، البتہ اگر سب بالغ وارثین باہمی رضامندی سے مرحوم کے ترکہ سے یا بعض بالغ وارثین اپنے اپنے حصے سے ادا کردیں تو اللہ تعالی کی ذات سے قبولیت کی امید ہے۔ ولو مات وعلیہ صلوات فائتة وأوصی بالکفارة یعطی لکل صلاة نصف صاع من بر کالفطرة، وکذا حکم الوتر والصوم وإنما یعطی من ثلث مالہ الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت، ۲: ۵۳۲، ۵۳۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔

(۲): اگر وہ مستحق زکوة ہے تو آپ اسے فدیہ کی رقم دے سکتے ہیں، پھر وہ فدیہ کی رقم اپنی جس ضرورت میں چاہے استعمال کرے۔ وھو -مصرف الزکاة- مصرف أیضاً لصدقة الفطر والکفارة والنذر وغیر ذلک من الصدقات الواجبة کما فی القھستاني (رد المحتار، کتاب الزکاة، باب المصرف، ۳: ۲۸۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، جاز دفع صدقة جماعة إلی مسکین واحد بلا خلاف یعتد بہ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الزکا، باب صدقة الفطر، ۳: ۳۲۴)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات