عبادات - احکام میت

India

سوال # 69753

قبرستان میں میت کی تدقین کی بعد قبر کے قریب دعا کرناجائز ہے ؟

Published on: Oct 6, 2016

جواب # 69753

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 1351-1327/N=1/1438

جی! ہاں،قبرستان میں میت کی تدفین سے فارغ ہوکر قبلہ رو ہوکر اور ہاتھ اٹھاکر میت کے لیے دعائے مغفرت وغیرہ کرنا جائز ودرست ؛ بلکہ مستحب ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے(احسن الفتاوی ۴: ۲۳۳، ۲۳۴، مطبوعہ: ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)، البتہ دعا میں کوئی ایسی ہیئت یا طریقہ اختیار نہ کیا جائے کہ کسی دیکھنے والے کو صاحب قبر سے مانگنے کا شبہ ہو۔ عن عثمان قال: کان النبي صلی اللہ علیہ وسلم إذا فرغ من دفن المیت وقف علیہ فقال: استغفروا لأخیکم ثم سلوا لہ بالتثبیت فإنہ الآن یسأل، رواہ أبو داود (مشکاة المصابیح، کتاب الإیمان، باب إثبات عذاب القبر ، الفصل الثاني، ص ۲۶، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، وفي حدیث ابن مسعود:رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم في قبر عبد اللہ ذی النجادین “ الحدیث، وفیہ: فلما فرغ من دفنہ استقبل القبلة رافعاً یدیہ ، أخرجہ أبو عوانة في صحیحہ (فتح الباري، کتاب الدعوات، باب الدعاء مستقبل القبلة، ۱۱: ۱۷۳، ط:دار السلام الریاض)۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات