عبادات - احکام میت

Pakistan

سوال # 69507

(۱) ہمارے ہاں کسی کے فوت ہونے پر جنازہ اٹھنے کے بعد آنے والے سب مہمانوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے ،جس کا انتظام میت کے قریبی عزیز کرتے ہیں،اور ایسا 3 دن تک کرتے ہیں،اس کھانے کو کھا لیا تو کفارے کا کیا حکم ہے ؟
(۲) ایک جگہ پڑھا تھا کہ میت کے گھر کا کھانے سے دل مردہ ہو جاتا ہے ، ارادہ کیا جو بھی ہو جا ئے کسی میت کے گھر کھانا نہیں کھائیں گے ، ایک بار جن کو کھاتے دیکھا تو دل میں خیال آیا کہ اس سے تو دل مردہ ہوتا ہے یہ کتنے شوق سے کھا رہے ہیں/ ان کو معلوم نہیں ہے کبھی مناسب موقع پر باتوں باتوں میں ذکر کروں گی،لیکن چند ماہ بعد انہی کے گھر فوتگی ہونے پر جانا ہوا اور بھوک نہ ہونے کے باوجود کھانا کھانے بیٹھی،جنازہ ظہر کے بعد تھا تو میت کے لواحقین نے دور سے آنے والوں کے لئے اپنے خرچ سے ناشتے کا بھی انتظام کیا تھا، ناشتہ کرنے کی بھی غلطی ہوئی،جبکہ کچھ کھانے کا ارادہ نہیں تھا، کیا کیا جائے ؟اب اکثر معاملات میں ایسا ہوتا ہے کہ جس چیز کو برا اور نامناسب سمجھتے ہیں دوسروں کو مبتلا دیکھ کر اچھا نہیں سمجھتے نہ چاہنے کے باوجود خود اس میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ایسا کیوں ہوتا ہے ؟

Published on: Sep 22, 2016

جواب # 69507

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 1134-1113/M=12/1437

”میت کے گھر کا کھانا کھانے سے دل مردہ ہوجاتا ہے“ یہ بات ہماری نظر سے کہیں نہیں گذری جو لوگ دور دراز سے جنازہ میں شرکت کے لیے آتے ہیں او رکسی وجہ سے وہ واپس نہیں ہوسکتے ، اہل میت یا ان کے قریبی اعزہ ان کے لیے کھانے کا نظم کردیں تو اس میں مضائقہ نہیں ہے اور ان کے لیے میت کے گھر کھانے میں حرج نہیں، عوام میں یہ مشہور ہے کہ تین روز تک اہل میت کے گھر کوئی چیز نہ کھائی جائے یہ غلط اور بے اصل ہے ہاں جو بات مکروہ اور بدعت ہے وہ یہ کہ غم کے اس موقع پر خوشی و مسرت کی طرح باضابطہ کھانے کا دستر خوان سجانا منع ہے اسی طرح تیجہ، دسواں، چالیسواں وغیرہ کرنا یہ سب درست نہیں، نیز آپ کے یہاں جنازہ اٹھنے کے بعد آنے والے سبھی مہامانوں کو جو کھانا کھلایا جاتا ہے اگر اس میں قریب و بعید ہر طرح کے لوگ شریک ہوتے ہیں اور اس کا رواج بنا ہوا ہے تو یہ بھی لائق ترک ہے بہرحال اگر کوئی رسم و رواج کا کھانا کھالے تو اس پر کوئی مالی کفارہ نہیں آئندہ اس سے احتیاط رکھے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات