عبادات - احکام میت

Pakistan

سوال # 1937

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عبداللہ گھر سے دور ایک حادثہ میں فوت جا تاہے ، وہاں پر اس کے دوست واحباب اس کو غسل دے کے اس کی نماز جنازہ ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد اس کی میت کو اس کے آبائی گھر لائی جاتی ہے جہاں اس کے والد اوردوسرے عزیز و اقارب دوسری دفعہ اس کا جنازہ پڑھناچاہتے ہیں لیکن وہاں پر موجود علماء فرماتے ہیں کہ اگر ایک مرتبہ نمازجنازہ ادا ہوجائے تو دوبارہ نماز جنازہ نہیں ہوسکتی ۔اگر نماز جنازہ پڑھنی ہوہو تو میت کو دوبارہ غسل دینا ہوگا اورکفن بھی نیا دینا ہوگا تب دوبارہ نماز جنازہ ادا کی جاسکتی ہے۔


گذارش ہے کہ درج ذیل سوالوں کا جواب قرآن وحدیث کی روشنی میں دیں ، اسلامی کتابوں میں کوئی ایسا واقعہ ہو تو اس کا حوالہ بھی دیں ۔


(۱) کیا دوبارہ نماز جنازہ ادا نہیں ہوسکتی جب کہ اس کے والد اور دوسرے عزیز و اقار ب نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوئے ؟


(۲) کیا دوبارہ نماز جنازہ پرھنے کے لیے دوبارہ غسل و کفن ضروری ہے؟


(۳) اگر میت کے جسم پر زخم ہو اور ان سے خون نکلتاہو تو آیا دوبارہ غسل و کفن ضروری ہے یا بغیر دوبارہ غسل و کفن کے دوسری مرتبہ نماز جنازہ ادا کی جاسکتی ہے؟


(۴) علماء کا یہ کہنا صحیح ہے کہ دوبار ہ نماز جنازہ پڑھنے کے لیے دوبارہ غسل و کفن دینا ضروری ہے؟


(۵) میت کو والد اوردوسرے عزیز و اقارب کی نماز جنازہ میں شرکت کے بغیر دفن کرناکیسا ہے ؟جبکہ جائے واردات پر ایک مرتبہ نماز جنازہ ادا کی جا چکی ہے؟

Published on: Nov 17, 2007

جواب # 1937

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 1371/ ب= 1223/ ب


 


(۱) میت کے ولی نے اگر پہلی نماز میں شرکت نہیں کی ہے تو ولی کے حکم سے دوبارہ نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ (۲) جی نہیں! پہلا ہی غسل و کفن کافی ہے۔


(۳) موت کے بعد جسم میں خون خشک ہوجاتا ہے، لیکن اگر شاذ و نادر نکل آئے تو اتنا حصہ دھوکر دوبارہ نماز جنازہ پڑھ سکتے ہیں، بشرطیکہ پہلی نماز میں ولی شریک نہ ہوا ہو۔


(۴) صحیح نہیں۔


(۵) درست ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات