عبادات - احکام میت

Pakistan

سوال # 172989

کیا میں اپنی ماں کی قبر پر جا کے، السلامُ علیک یا امی جان، کے الفاظ کہہ سکتا ہوں یا نہیں؟

Published on: Sep 12, 2019

جواب # 172989

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1173-216T/SN=1/1441



 علما نے صراحت کی ہے کہ قبر پر حاضر ہوکر اگر مردے کو سلام کیا جائے تو مردے سلام کو سنتے ہیں اور اس کا جواب بھی دیتے ہیں؛ لہذا آپ اپنی والدہ کی قبر پر حاضر ہوکر مذکور فی السوال یا اس طرح کے دیگر الفاظ کے ساتھ سلام کر سکتے ہیں۔(دیکھیں: فتاوی محمودیہ1/571 ، ط: ڈابھیل)



والصحیح عند العلماء روایة ابن عمر، لما لہا من الشواہد علی صحتہا من وجوہ کثیرة ، من أشہر ذلک ما رواہ ابن عبد البر مصححا لہ ، عن ابن عباس مرفوعا: ما من أحد یمر بقبر أخیہ المسلم ،کان یعرفہ فی الدنیا، فیسلم علیہ، إلا رد اللہ علیہ روحہ ، حتی یرد علیہ السلام. وثبت عنہ صلی اللہ علیہ وسلم أن المیت یسمع قرع نعال المشیعین لہ، إذا انصرفوا عنہ، وقد شرع النبی صلی اللہ علیہ وسلم لأمتہ إذا سلموا علی أہل القبور أن یسلموا علیہم سلام من یخاطبونہ فیقول المسلم: السلام علیکم دار قوم مؤمنین ، وہذا خطاب لمن یسمع ویعقل، ولولا ہذا الخطاب لکانوا بمنزلة خطاب المعدوم والجماد، والسلف مجمعون علی ہذا، وقد تواترت الآثار عنہم بأن المیت یعرف بزیارة الحی لہ ویستبشر، فروی ابن أبی الدنیا فی کتاب القبور عن عائشة، رضی اللہ عنہا، قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: "ما من رجل یزور قبر أخیہ ویجلس عندہ، إلااستأنس بہ ورد علیہ حتی یقوم. وروی عن أبی ہریرة، رضی اللہ عنہ، قال: إذا مر رجل بقبر یعرفہ فسلم علیہ، رد علیہ السلام. (تفسیر ابن کثیر ت ط: سلامة ، 6/ 325)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات