عبادات - احکام میت

india

سوال # 162081

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں:
کسی عالم نے یہ کہا ہے کہ نماز جنازہ کی جو ثناء ہے اس کے اندر ایک عبارت ہے (وجل ثنائک) یہ عبارت کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔
اس مسئلہ کو حل فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

Published on: Jun 7, 2018

جواب # 162081

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1123-1033/M=9/1439



نماز جنازہ کے ثناء میں ”وجل ثناء ک“ کی زیادتی کسی معتبر حدیث میں نہیں ملی، درمختار کی ایک عبارت سے ثبوت ہوتا ہے لیکن صاحب بحر نے ”منیة المصلی“ سے نقل کیا ہے کہ اگر کوئی اسے پڑھے تو منع نہ کیا جائے اور نہ پڑھے تو اسے پڑھنے کا حکم نہ دیا جائے۔وقرأ کما کبّر سبحانک اللہم تارکاً وجل ثناء ک إلا فی الجنازة (درمختار مع الشامی اشرفی دیوبند: ۲/۱۶۶) وفی منیة المصلی: وإذا زاد ”وجل ثناوٴک لایمنع وإن سکت لا یوٴمر بہ وفی الکافی أنہ لم ینقل فی المشاہیر، وفی البدائع: أن ظاہرا الروایة الاقتصار علی المشہور۔ (البحر الرائق)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات