عبادات - احکام میت

India

سوال # 161662

ہماری مسجد کالونی کے ایک کنارے پر واقع ہے۔ اس کے آس پاس مسلم آبادی نہیں ہے۔ مسجد کی پرانی کمیٹی نے مسجد کو ۲۴/ گھنٹے آباد رکھنے کی غرض سے چار سال پہلے ایک مدرسہ مسجد کے اوپر کی منزل میں جہاں صرف جمعہ کی نماز ہوتی ہے، قائم کردیا، جہاں پر لگ بھگ چالیس سے پچاس بچے جن کی عمر سات سے پندرہ سال کے بیچ ہے، ان کا قیام و طعام ہوتا ہے اور پڑھائی بھی ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ:
(۱) کیا مسجد میں مدرسہ قائم کیا جاسکتا ہے؟ اگر ہاں! تو کن صورتوں میں؟ اور اگر نہیں! تو جو مدرسہ ہمارے یہاں چل رہا ہے اس کا کیا کیا جائے؟
(۲) کیا مسجد سے متصل جو کمرے ہیں ان کو کرایہ پر دیا جاسکتا ہے؟

Published on: May 30, 2018

جواب # 161662

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 1004-835/B=9/1439



مسجد شرعی کی اوپر والی منزل بھی مسجد ہی کا حکم رکھتی ہے، اس میں مدرسہ کھولنا اور کسی کو باتنخواہ وہاں پڑھانا درست نہیں۔ مسجد سے قریب کوئی دوسری جگہ کرایہ پر لے کر مدرسہ چلائیں۔



(۱) جی نہیں، مسجد شرعی میں مدرسہ قائم کرنادرست نہیں ہے۔ اس منزل کو صرف نماز پڑھنے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔



(۲) اگر وہ کمرے حدود مسجد سے باہر بنے ہوتے ہیں تو ان کو کرایہ پر دینا اور اس کو مسجد میں استعمال کرنا جائز ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات