عبادات - احکام میت

Bangladesh

سوال # 160656

سوال: ہم یہ جاننا چایتے ہیں کہ گھر میں اگر میت ہو تو کیا نماز جنازہ گھر کاہی کوئی فرد پڑھائے یاامام صاحب سے پڑھائے ، بہتر کیا ہے ؟ اگر گھر کا فرد پڑھا سکتاہے تو کون پڑھائے ؟

Published on: May 10, 2018

جواب # 160656

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:907-715/sn=8/1439



اگر میت کا ولی (مثلاً باپ، بیٹا) مسجد محلہ کے امام سے علم وفضل میں افضل ہے تو نمازِ جنازہ پڑھانے میں وہی (ولی) مقدم ہے، ورنہ امام صاحب سے درخواست کرکے ان سے ہی نمازِ جنازہ پڑھوانی چاہیے، اگر ولی کے علاوہ گھر کا کوئی فرد اہل ہے تو وہ بھی امام صاحب کی اجازت سے ”ولی“ کی ہدایت کے مطابق نماز پڑھا سکتا ہے۔ إنما یتسحب تقدیم إمام مسجد حیة علی الولي إذا کان أفضل من الولي ذکرہ في الفتاوی اھ، وہو قید حسن الخ (البحر الرائق: ۲/۱۹۴، ط: دار الکتاب الإسلامی)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات