عبادات - احکام میت

india

سوال # 160516

ہمارے گاوں میں ایک طریقہ ایجاد کیا ہواہے ، جب کسی کے گھر میں میت ہوجاتی تو بستی والے لوگ سب مل کر ۱۰۰۔۱۰۰۔روپئے اکٹھا کرکے جمع کرتے ہیں اور ۳۔ دن تک اس گھر میں لنگر لگاتے ہیں جس گھر میں میت ہوجاتی ہے اور ۴ دن پھر سب لوگوں کو دعوت کی جاتی ہے ، کیا یہ طریقہ فقہ حنفی میں دروست ہے یا نہیں ۔ تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔

Published on: Apr 25, 2018

جواب # 160516

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:850-685/B=8/1439



کسی گھر میں میت ہوجانے پر بستی والوں کا ۱۰۰-۱۰۰روپے چندہ کرنا اور پھر تین دن تک لنگر چلانا شریعت اسلام میں ثابت نہیں، اس فضول خرچی کی رسم کو ترک کرنا چاہیے۔ شریعت میں صرف اتنا ثابت ہے کہ جب کسی کے گھر میت ہوجائے تو پڑوس والے کو یا کسی رشتہ دار کو چاہیے کہ ایک روز کھانا پکاکر اس کے گھر بھیج دے، کیونکہ غم کی وجہ سے وہ کھانا نہیں پکاسکیں گے۔ کھانا بھی وہی ہو جو عام طور پر کھایا جاتا ہو۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات