عبادات - احکام میت

india

سوال # 159341

ایک مہینہ پہلے میری بیوی کا انتقال ہوگیاہے، اس کی عمر ۴۹ سال تھی، پسماندگان میں ایک بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ پہلے آپ سے گذارش ہے کہ آپ میری بیوی مرحومہ کے لیے دعا کریں اور میرے لیے اور میری اولاد کے لیے بھی دعا کریں۔
میرے کچھ سوالات ہیں جو درج ذیل ہیں:
(۱) کیا ہم یا کوئی میری بیوی مرحومہ کا فوٹو موبائل میں دیکھ سکتاہے؟کیا اس سے مرحومہ کو تکلیف ہوگی؟
(۲) جب میں الماری میں اس کا رکھا ہوا کپڑا دیکھتاہوں اور اس کی بہن یا میری بیٹی اس کپڑے کو پہنتی ہے تو مجھے یاد آجاتاہے کہ وہ کس طرح میرے ساتھ پیش آتی تھی ( میرا مطلب نفسیاتی چیز ہے)تو کیا اس کا گناہ مجھے ہوگا اور یہ مرحومہ کے لیے اچھا نہیں ہوگا؟
(۳) میں اس کی قبر پر بہت ساری سورتیں پڑھتا ہوں جیسے الف لام میم سجدہ، سورة یاسین، سورة ملک۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں کوئی بھی سورة پڑھ سکتاہوں ؟ یا حدیث میں کچھ سورتوں کا پڑھنا منع ہے؟دوسری بات یہ ہے کہ میں سورتیں پڑھنے کے بعد میں دعا کرتاہوں کہ:
” اے اللہ اس پڑھنے کا ثواب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی روح پاک پر، انبیاء ، صحابہ اور تمام امت مسلمہ کی ارواح پاک اور پھر اپنی مرحومہ کی روح پاک پہنچا ، کیا یہ طریقہ درست ہے“؟کیا ہم صرف اپنی مرحومہ بیوی کو اس کا ثواب دے سکتے ہیں؟ براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

Published on: Apr 26, 2018

جواب # 159341

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:811-87T/L=8/1439



(۱) مردہ بیوی کا فوٹو رکھنا اور اس کو دیکھنا نہ آپ کے لیے جائز ہے اور نہ آپ کے متعلقین کے لیے کیونکہ اب وہ اجنبیہ کے حکم میں ہے اور اجنبیہ کی تصویر دیکھنا جائز نہیں وہذا کلہ مصرح في مذہب المالکیة وموٴید بقواعد مذہبنا ونصہ عن المالکیة ما ذکرہ العلامة الدریر في شرحہ علی مختصر الخلیل حیث قال یحرم تصویر حیوان عاقل أو غیرہ إذا کان کامل الأعضاء إذا کان یدوم وکذا إن لم یدم علی الراجح کصنوبرہ من نحو قشر بطیخ ویحرم النظر إلیہ إذا النظر لحرام (بلوغ القصد والمرام: ص۱۹) (جواہر الفقہ: ۷/۲۶۵، ط: زکریا دیوبند)



(۲) آپ کے لیے اپنی وفات شدہ بیوی کے یاد آنے پر ذکر وغیرہ کرنا تو جائز ہے احادیث سے اس کی صراحت ملتی ہے لیکن اس کے کپڑے وغیرہ کو دیکھ کر اس سے تلذذ حاصل کرنا جائز نہیں کیونکہ اب یہ اجنبیہ کے حکم میں ہے۔ کما في الدر المختار ویمنع زوجہا من غسلہا ومسہا لا من النظر إلیہا علی الأصح (رد المحتار: ۳/۹۰/ ط: زکریا دیوبند) المرأة تغسل زوجہا لأن إباحة الغسل مستفادة بالنکاح فتبقی ما بقي النکاح والنکاح بعد الموت باقی إلی أن تنفض العدة بخلاف إذا ماتت فلا یغسلہا لانتہاء ملک النکاح لعدم المحل فصار أجنبیا․ (رد المحتار: ۳/۹۱، ط: زکریا دیوبند)



(۳) آپ اپنی عورت کی قبر پر قرآن کریم کی کسی بھی سورت کی تلاوت کرسکتے ہیں، احادیث سے کسی سورت کی ممانعت ثابت نہیں البتہ سورہٴ ملک کی کثرت رکھنی چاہیے اس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ عذاب قبر کے اندر تخفیف کا سبب بنتی ہے، نیز آپ کا دعا کرنے کا طریقہ درست ہے لیکن دعا میں عموم سے کام لینا چاہیے ، نیز بیوی وغیرہ کے لیے روحِ پاک کا استعمال مناسب نہیں، صرف ”روح“پر اکتفا کیا جائے۔ وفي شرح اللباب ویقرء من القرآن ما تیسر لہ من الفاتحة وسورة البقرة إلی المفلحون وآیة الکرسي وآمن الرسول وسورة یاسین وتبارک الملک وسورة التکاثر والإخلاص اثني عشرا وإحدی عشرا وسبعا أو ثلاثا ثم یقول اللہم أوصل ثواب ما قرأناہ إلی فلان أو إلیہم․ (رد المحتار: ۱/۸۴۴، ط: زکریا دیوبند) رب اغفر لي بدأ بنفسہ ثم بأبویہ ثم عمم لجمیع الموٴمنین والموٴمنات لیکون ذلک أبلغ وأجمع․ (في کشف الخفاء ومزیل الالباس: ۲/ ۳۷۱، ط: موٴسسة الرسالة)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات