عبادات - احکام میت

India

سوال # 158898

محترم مفتی صاحب دامت برکاتہم عرض یہ کہ ایک قبرستان کی زمین سے متعلق استفتاء کیا تھا کہ ایک قطعہ اراضی جو کہ شیعہ حضرات کی تھی، اور اس میں وہ لوگ اپنے مردے دفن کرتے تھے ، پھر بعد میں کسی وجہ سے انہوں نے اس میں تدفین بند کردی، تحصیل کے سرکاری کاغذات میں اس زمین کے متعلق جن لوگوں کے نام درج چلے آ رہے تھے ان کے وارثان نے اس زمین کی پلاٹنگ کر کے فروخت کر دی، ایک ٹکڑا الف نے بھی خریدا پھر الف سے ب نے خریدا، ب کو یہ ساری معلومات خریداری کے دیڑھ سال کے بعد ہوئی ، دریافت طلب امر یہ ہے کہ: کیا ب اس خریدی ہوئی زمین کو اپنے استعمال میں لا سکتا ہے ؟ یا اسے فروخت کر سکتا ہے ؟ جس کاجواب اس زمین کو مملوکہ مان کر جواز میں ہے ۔ جواب نمبر درج ہے : Fatwa:464-380/sn=5/1439 مذکورہ زمین کے متعلق یہ تحقیق نہیں مل پا رہی ہے کہ وہ واقعی وقف ہے یا نہیں، لیکن یہ بات واضح ہے کہ اس زمین پر کچھ سنی حضرات نے قبضہ کر لیا تھا اور اس پر اپنے دو میت بھی دفن کئے ، شیعہ حضرات نے اپنی گرفت کمزور دیکھ کر اسے فروخت کرنا شروع کر دیا، ایک مقامی باشندے نے بتایا کہ وہ جگہ بنجر تھی، لیکن سرکاری کاغذات میں شیعہ حضرات کے نام تھی، مذکورہ صورت حال میں کیا بندہ اس زمین کو نفع کے ساتھ فروخت کر کے استعمال میں لا سکتا ہے ؟ یا پھر اس زمین کا کیا کرے ؟
برائے کرم شرعی رہنمائی فرمائیں۔ مجھے احساس ہے کہ آپ کا وقت بہت قیمتی ہے ، تہ دل سے آپ کے لئے شکر گزار ہوں، اور دعا گو ہوں۔ محمد طیب (مفروضہ "ب")

Published on: May 7, 2018

جواب # 158898

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:706-148T/sn=8/1439



جب سرکاری کاغذات میں افراد کے نام ہیں، نیز جن کے نام ہے وہی اسے فروخت بھی کررہے ہیں تو یہ بظاہر مملوکہ ہونے کے قرائن ہیں؛ لہٰذا آپ کے لیے اس خرید کردہ زمین کو اپنے استعمال میں لانے یا فروخت کرنے کی گنجاش ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات