عبادات - احکام میت

India

سوال # 158385

انسان بعد الموت قبل الغسل ناپاک رہتا ہے یا نہیں؟ اگر ناپاک رہتا ہے تو غسل دینا مستحب ہے یا سنت یا واجب ؟

Published on: Feb 12, 2018

جواب # 158385

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 489-51T/sd=5/1439



 انتقال کے بعد غسل سے پہلے انسان کا ناپاک ہونا تو متفق علیہ ہے ؛ البتہ اُس کی ناپاکی حقیقی ہوتی ہے یا حکمی ، اس میں اختلاف ہے ، علامہ شامی نے نجاست حقیقی کو راجح قرار دیا ہے اور بہر صورت میت کو ایک بار غسل دینا واجب ہے۔



غسل المیت حق واجب علی الأحیاء بالسنة واجماع الأمة، کذا فی النہایة،والواجب ہو الغسل مرة واحدة ۔ (الفتاوی الہندیة : ۱۵۸/۱، کتاب الصلاة ، الباب الحادی العشرون فی الجنائز ، الفصل الثانی فی غسل المیت ) قال الحصکفی : وعللہ الشرنبلالی فی إمداد الفتاح تنزیہا للقرآن عن نجاسة المیت لتنجسہ بالموت قیل نجاسة خبث وقیل حدث، وعلیہ فینبغی جوازہا کقرائة المحدث۔قال ابن عابدین : (قولہ قیل نجاسة خبث) لأن الآدمی حیوان دموی فیتنجس بالموت کسائر الحیوانات وہو قول عامة المشایخ وہو الأظہر بدائع وصححہ فی الکافی.قلت: ویوٴیدہ إطلاق محمد نجاسة غسالتہ وکذا قولہم لو وقع فی بئر قبل غسلہ نجسہا وکذا لو حمل میتا قبل غسلہ وصلی بہ لم تصح صلاتہ، وعلیہ فإنما یطہر بالغسل کرامة للمسلم، ولذا لو کان کافرا نجس البئر ولو بعد غسلہ کما قدمنا ذلک کلہ فی الطہارة (قولہ: وقیل حدث) یوٴیدہ ما ذکرہ فی البحر من کتاب الطہارة أن الأصح کون غسالتہ مستعملة، وأن محمدا أطلق نجاستہا لأنہا لا تخلو من النجاسة غالبا.قلت: لکن ینافیہ ما مر من الفروع إلا أن یقال ببنائہا علی قول العامة. قال فی فتح القدیر: وقد روی فی حدیث أبی ہریرة سبحان اللہ إن الموٴمن لا ینجس حیا ولا میتا فإن صحت وجب ترجیح أنہ للحدث. اہ.وقال فی الحلیة: وقد أخرج الحاکم عن ابن عباس - رضی اللہ عنہما - قال قال رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - لا تنجسوا موتاکم فإن المسلم لا ینجس حیا أو میتا وقال صحیح علی شرط البخاری ومسلم فیترجح القول بأنہ حدث اہ.قلت: ویظہر لی إمکان الوجوب بأن المراد بنفی النجاسة عن المسلم فی الحدیث النجاسة الدائمة فیکون احترازا عن الکافر فإن نجاستہ دائمة لا تزول بغسلہ، ویوٴید ذلک أنہ لو کان المراد نفی النجاسة مطلقا لزم أنہ لو أصابتہ نجاسة خارجیة لا ینجس مع أنہ خلاف الواقع فتعین ما قلنا وحینئذ فلیس فی الحدیث دلالة علی أن المراد بنجاستہ نجاسة حدث فتأمل ذلک بإنصاف ۔(الدر المختار مع رد المحتار : ۱۹۳/۲، کتاب الصلاة ، باب صلاة الجنازة ، ط: دار الفکر، بیروت ) 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات