عبادات - احکام میت

India

سوال # 157908

کیا فرما تے ہیں علماء دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ بعد تدفین میت قبر کے قریب اجتماعی دعا درست ہے ؟نیز اس کو رواجی طور پر ضروری قرار دینا یا اسکا التزام کرنا کیسا ہے ؟ جبکہ عوام اس کو امام کی ذمہ داری قرار دیتے ہوں؟

Published on: Jan 14, 2018

جواب # 157908

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:401-35T/35/sd=4/1439



 مستحب یہ ہے کہ تدفین سے فارغ ہوکر قبر کے پاس اتنی دیر ٹھہرا جائے کہ ایک اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت تقسیم کیا جاسکے ، عرب اونٹ بہت جلدی ذبح کرلیتے تھے ، مراد یہ ہے کہ دفن کے بعد تھوڑی دیر ٹھہر کر انفرادی طور پر میت کے لیے منکر نکیر کے سوالات کے جواب میں ثبات قدمی اور مغفرت کی دعا کرنی چاہیے اور میت کے سرہانے سور بقرہ کی ابتدائی آیتیں اور پائینتی جانب سورہ بقرہ کی آخری آیتیں پڑھنی چاہیے ، البتہ دعا میں کوئی ایسی ہیئت یا طریقہ اختیار نہ کیا جائے کہ کسی دیکھنے والے کو صاحب قبر سے مانگنے کا شبہ ہو،یعنی قبلہ رو ہوکر دعا مانگنی چاہیے اور باضابطہ اجتماعی طور پر دعا مانگنے کو ضروری اور لازم سمجھتے ہوئے امام کی ذمہ داری قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ عن عثمان قال: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم إذا فرغ من دفن المیت وقف علیہ فقال: استغفروا لأخیکم ثم سلوا لہ بالتثبیت فإنہ الآن یسأل، رواہ أبو داود (مشکاة المصابیح، کتاب الإیمان، باب إثبات عذاب القبر، الفصل الثانی، ص ۲۶، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، وعن عبد اللہ بن عمرقال: سمعت النبی صلی اللہ علیہ وسلم یقول: إذا مات أحدکم فلا تحبسوہ وأسرعوا بہ إلی قبرہ ولیقرأ عند رأسہ فاتحة البقرة وعند رجلیہ بخاتمة البقرة، رواہ البیھقی فی شعب الإیمان وقال: والصحیح أنہ موقوف (المصدر السابق، کتاب الجنائز، باب دفن المیت، الفصل الثالث، ص ۱۴۹، وانظر مرقاة المفاتیح أیضاً)، وعن عمرو بن العاص قال لابنہ وھو فی سیاق الموت: إذا أنا مت فلا تصحبنی نائحة ولا نار فإذا دفنتمونی فشنوا علی التراب شناً ثم أقیموا حول قبری قدر ما ینحر جزور ویقسم لحمھا حتی أستأنس بکم وأعلم ماذا أراجع بہ رسل ربی؟ رواہ مسلم (المصدر السابق) وفی حدیث ابن مسعود:رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی قبر عبد اللہ ذی النجادین الحدیث، وفیہ: فلما فرغ من دفنہ استقبل القبلة رافعاً یدیہ ، أخرجہ أبو عوانة فی صحیحہ (فتح الباری، کتاب الدعوات، باب الدعاء مستقبل القبلة، ۱۱: ۱۷۳، ط:دار السلام الریاض)، ویستحب …بعد دفنہ لدعاء وقراء ة بقدر ما ینحر الجزور ویفرق لحمہ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة الجنازة، ۳: ۱۴۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات