عبادات - احکام میت

INDIA

سوال # 155036

(۱) میرا سوال یہ ہے کہ کسی کا گھر بہت بڑا ہے اس میں کچھ حصہ کچا بھی ہے ، کیا کوئی بھی مسلمان اس حصے میں اپنے والدین یا بھائی، بہن کسی کو بھی دفنا سکتا ہے؟ یا قبرستان میں دفنانا ضروری ہے؟ اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے؟
(۲) دوسرا سوال یہ ہے کہ ماں باپ کے انتقال کے بعد نماز جنازہ بیٹے کو پڑھنا چاہئے یا علاقے کے مفتی یا مسجد کے امام صاحب سے؟ کس کے پڑھانے سے میت کو زیادہ ثواب ملے گا؟

Published on: Oct 16, 2017

جواب # 155036

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 37-88/H=1/1439



(۱) خواہ گھر بہت بڑا ہو اور چاہے اس کا کچھ حصہ کچا بھی ہو تب بھی والدین بھائی بہن کی میت کو مسلمانوں کے قبرستان میں ہی دفنانا چاہئے وفی النوازل لایدفن المیت فی الدار وفی الولوالجیہ وان کان (المیت) صغیراً لان الدفن مکان الموت سنة الانبیاء لاسنة غیرہم اھ الفتاوی التاتارخانیہ: ۸۹/۳۔



(۲) اگر میت کا بیٹا متقی پر ہیزگار اور احکام نماز سے واقف ہے تو وہی مقدم ہے ورنہ امام محلہ پڑھائے اگر حاضرین میں کوئی افضل واتقی مفتی صاحب ہوں اور ولی میت ان کو بڑھادے اور وہ نماز پڑھادیں یہ بھی صحیح ہے۔





 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات