عبادات - احکام میت

India

سوال # 1421

عورت کے انتقال پر اس کے بالوں کے دو حصے کرکے سینے پر ڈالتے ہیں۔ لیکن ایک اہل حدیث نے سوال کیا کہ بخاری شریف میں حدیث نمبر 1176، 1180،1181 میں تین حصے اور چوٹی کرنے کا ذکر ہے۔ تو حنفی مسلک کے مطابق اس کا کیا جواب ہوگا؟ رہ نمائی فرمائیں۔

Published on: Aug 30, 2007

جواب # 1421

بسم الله الرحمن الرحيم

(فتوى:  493/م = 488/م)


 


بخاری شریف کی جن روایات میں عورت کے انتقال پر اس کے بالوں کے تین حصے اور چوٹی کرنے کا ذکر ہے وہ سب ام عطیہ -رضی اللہ عنہا- سے مروی ہے، جن کے بارے میں حنفیہ فرماتے ہیں کہ ان میں ایسا کوئی اشارہ موجود نہیں جس سے معلوم ہو کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے بلکہ وہ حضرت ام عطیہ -رضی اللہ عنہا- کا قول ہے اس لیے ان روایات کو لے کر حنفیہ پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ قال في حاشیة البخاري/ ج۱ ص۱۶۹: قولہ ثلاثة قرون، وبہ قال الشافعي وعند الحنفیة یجعل ضفیرتان علی صدر ما فوق الدرع وأما قولھا فضفرتا شعرھا ثلثة قرون لیس في الحدیث إشارة من النبي صلی اللہ علیہ وسلم إلی ذلك وإنما ھو قول أمّ عطیة۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات