عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

India

سوال # 9740

میرے والد صاحب ایک گورنمنٹ عربک کالج سے عالم ہیں، نیز وہ ایم اے، ایل ایل بی اور بی ٹی ہیں۔ اب عربک ڈپارٹمنٹ میں بطور لکچرر کے کام کررہے ہیں۔ لیکن وہ ہمیشہ تبلیغی جماعت اور دعوت کے خلاف رہتے ہیں۔ (۱)وہ ہمیشہ لوگوں سے فرعون کی طرح کا برتاؤ کرتے ہیں ،وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ ہم کرتے ہیں، ہم کھلاتے ہیں، ہم چلاتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ (۲)وہ ہمارے ساتھ اور دوسرے لوگوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کرتے ہیں جو کہ اللہ کے خلاف ان کی اطاعت نہیں کرتے ہیں۔ (۳)وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ لڑتے ہیں اوردوسرے لوگوں کے ساتھ اور اللہ کے حکم کے خلاف کام کرنے کو کہتے ہیں جیسا کہ جھوٹ بولنا وغیرہ؟۔ (۴)وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ انڈیا میں سود جائز ہے اس لیے وہ ہرسال لون لیتے ہیں۔ (۵)وہ زکوة ادا نہیں کرتے ہیں اوراگر ادا کرتے ہیں تو بغیر شمار کئے ہوئے۔ وہ میری ماں کی جانب سے بھی زکوة ادا نہیں کرتے ہیں۔ (۶)وہ پابندی سے عدالت میں جاتے ہیں غلط کیس درج کرنے کے لیے غریب لوگوں کے خلاف ۔ تقریباً پچاس عدد۔ (۷)میں نے ان کا نماز کے علاوہ کوئی اچھا کام نہیں دیکھا ہے۔ (۸)سوسائٹی کا کوئی بھی شخص ان سے محبت نہیں کرتا ہے سوائے ان لوگوں کے جو کہ اس کی فرمانبرداری کرتے ہیں۔ (۹)جب میں کہتاہوں کہ اللہ سے ڈرو، تو وہ کہتے ہیں کہ دیکھا جائے گا۔ (۱۰)وہ میری ماں کی طرف سے کبھی قربانی نہیں کراتے ہیں۔ (۱۱)ان کا معیار ہے (الف)جھوٹ (ب)امانت میں خیانت کرنا (ج)لوگوں کو دھوکا دینا وغیرہ وغیرہ۔ (۱۲)ان کے مطابق تمام لوگ برے ہیں بشمول نظام الدین اور دیوبند کے علماء کے۔ (۱۳)وہ تعلیم میں کبھی نہیں بیٹھتے ہیں گھر میں یا مسجد میں۔ (۱۴)ان کے بھائی اور بہن ان کی اطاعت کرتے ہیں بدلہ میں وہ ان کو پیسہ اور جائداد عطا کرتے ہیں۔ اپنی تنخواہ پینتیس ہزار روپیہ میں سے وہ ہمارے لیے صرف چھ سے سات ہزار روپیہ خرچ کرتے ہیں اور بقیہ کو مکان بنانے میں خرچ کرتے ہیں ان کا چھ سے زائد مکان ہے۔ ان کے رشتہ داروں پر خرچ کرنے میں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے کیوں کہ ہم آخرت چاہتے ہیں لیکن وہ کبھی غریب لوگوں پر، مسجدوں میں، مدرسوں وغیرہ میں خرچ نہیں کرتے ہیں۔ (۱۵)وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ میں اسلام کے بارے میں سب کچھ جانتا ہوں۔(۱۶)انھوں نے اپنے ایک بھائی کے لڑکے کو قتل کردیا جو کہ ایک مدرسہ کے استاد تھے، کیوں کہ وہ اس کے خلاف بولتے تھے اور اس کے بھائیوں کے خلاف ان کے اللہ کے خلاف کام کی وجہ سے اور لوگوں کے خلاف جیسے بدعنوانی، جھوٹ، خاص طور پربدعنوانی۔ اور اب اس کے والد،ماں، بھائی وغیرہ کے خلاف جھوٹا کیس داخل کرارہے ہیں۔ میں کتنا لکھوں اے اللہ میری مدد کر۔ اب میں کیا کروں۔ برائے کرم مجھے مشورہ دیں یا صرف دعا، ہر شخص کہتا ہے۔

Published on: Jan 21, 2009

جواب # 9740

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 87=84/ ب


 


مذکورہ بالا صورتوں میں آپ پر یہ ہے کہ ان کی جو خلافِ شرع باتیں ہیں، مثلاً: جھوٹ بولنا، خیانت کرنا، دھوکہ وغیرہ دینا، یہ سب آپ قطعاً نہ مانیں، آپ صرف ان معاملوں میں اطاعت کریں جو مباح اور جائز ہیں، اور سمجھانے کی بھی کوشش کریں اور اگر غیرشرعی باتوں سے روک سکتے ہوں تو روکیں۔ ہرشخص اپنے عمل کا جواب دہ ہے، اور یہ بتادیجیے کہ اسلام صرف سب کچھ جاننے کا نام نہیں ہے، اسلام صرف ماننے اورعمل کرنے کا نام ہے۔ ہم سب آپ کے لیے دعا گو ہیں، اللہ آپ کو دینی ودنیوی منافع سے سرفراز فرمائے۔ (آمین)


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات