عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

India

سوال # 9109

میری سگی بہن زنا کا کاروبار کرتی ہے۔ جب سے اس کا طلاق ہوا ہے تب سے وہ یہ کررہی ہے۔ اس سب باتوں کی آگاہی میں نے کافی پہلے ہی والدین سے کی تھی لیکن والد کا ایک ہی جواب تھا وہ جیسے رہنا چاہے اسے رہنے دو۔ میرے والد بھی جوا کھیلتے ہیں ان سب وجوہات کی بنا پر میرا ان لوگوں سے رشتہ توڑے ہوئے تقریباً دس سال ہو گئے۔ اب جب میں اپنی شادی کے لیے تیاری کررہا ہوں تو بھائی کہتا ہے کہ آپ کچھ کرو ماں کو اپنے پاس بلالو۔ ان سب تکلیفوں سے میرا دل کر رہا ہے کہ خود کشی کرلوں۔ مہربانی کر کے مجھے آپ صرف اتنا بتادیں کہ کیا میں اپنے ماں باپ کو اپنی زندگی سے انخلاء کر سکتا ہوں۔ ماں طلاق کے ڈر سے نہیں آنا چاہتی، اس کے لیے میں اتنے دنوں زندہ تھا اب خودکشی کرنے کی طرف دماغ مائل ہوتاہے۔ جواب جلد از جلد بھیجنے کی کوشش کریں۔

Published on: Dec 31, 2008

جواب # 9109

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 2124=1954/ د


 


خودکشی کرنا حرام ہے، آپ کے دماغ میں شیطانی وسواس پیدا ہورہے ہیں، شیطان آپ کی عاقبت بھی خراب کرنا چاہتا ہے، لہٰذا ہمت سے کام لیجیے، شیطان کو اپنے مقصد میں ہرگز کامیاب نہ ہونے دیجیے۔ بہن کے حالاتِ بد سے آپ کا غمزدہ ہونا درست ہے اور اظہارِ ناگواری وناراضگی کے لیے قطع تعلق کرلینا بھی بجا ہے، ماں باپ کا طرزِ عمل اگر بہن کی موافقت میں ہے، تو آپ ان سے بھی علاحدگی اختیار کرسکتے ہیں، لیکن حُسن سلوک اور احترام کا رویہ برقرار رکھیں، گاہ بگاہ ان سے ملاقات کرلیا کریں۔ آپ کا سوال ?کیا میں اپنے ماں باپ کو اپنی زندگی سے انخلا کرسکتا ہوں? واضح نہیں ہے۔ حکم، سابق میں لکھ دیا گیا اگر پھر بھی آپ کا سوال برقرار ہو تو وضاحت کرکے دوبارہ معلوم کریں۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات