عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

Pakistan

سوال # 4006

کیا خیال ہے اس تحریک کے بارے میں جسے تبلیغی جماعت کے نام سے جانا جاتاہے جس میں ایک سال ، سات مہینے ، چارہ مہینے ، چالیس دن ، تین دن اور شب جمعہ وغیرہ کی حقیقیت نہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے ثابت ہے اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اورنہ ان کے بعد کے لوگوں سے ۔ جبکہ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرمادیاہے کہ تمہارے لئے تمہار ا دین مکمل کردیاہے یعنی حجة الوداع کے موقع پر تو پھر دین ان نئی چیزوں کا آنا بدعت نہیں تو اور کیاہے؟

Published on: May 26, 2008

جواب # 4006

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 885/ ھ= 663/ ھ


 


آپ نے استفتاء ہذا بذریعہ ای میل بھیجا ہے، کیا ای میل کے توسط سے مسائل شریعت کو حل کرنا کرانا حضرت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نیز تابعین تبع تابعین رحمہم اللہ سے ثابت ہے، ظاہر ہے ہرگز نہیں تو ای میل سے مسائل حل کرنا بدعت قبیحہ میں داخل ہے یا نہیں؟ آپ کے یہاں پریس میں چھپا ہوا قرآن شریف پڑھا پڑھایا جاتا ہے کیا زمانہٴ خیر القرون میں پریس میں طبع کیے قرآن شریف میں پڑھنا کا ثبوت ہے؟ ظاہر ہے کہ ہرگز نہیں، پھر اس پر کیا حکم ہے؟ رہا فی نفسہ جماعت تبلیغ میں نکلنے کا ثبوت وہ تو بالکل صاف حضرات صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے ثابت ہے، اور حضرات صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے جو کچھ اختیار فرمایا وہ قرآن و حدیث بلکہ منشأ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری طرح سمجھ کر اختیار کیا تھا باقی جماعت تبلیغ میں نظام جماعت کا معاملہ ایسا ہے جیسا کہ مدارس میں نصابِ تعلیم اور نظامِ تعلیم وغیرہ کا ہوتا ہے ان جیسے امور میں ہرہرجزئی کے ثبوت کا قرآن وحدیث اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحتاً مطالبہ کرنا بے محل ہے، آپ پہلے براہین قاطعہ (مصنفہ محدث کبیر مہاجر مدنی حضرت مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری رحمہ اللہ) میں بدعت کی تعریف شرعی اور اس کی حقیقت کا مفصل بیان بغور اطمینان سے مطالعہ کریں، پھر اس کا انطباق یا عدم انطباق جماعت تبلیغ کے نظام پر ہوتا ہے یا نہیں اس پر غور کریں، اس کے بعد جو اشکال رہے اس کو لکھیں۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات