عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

Japan

سوال # 3065

میرے بھائی نے ماسٹر ڈگری ہے اورایک جاپانی یونیورسٹی میں میں پڑھارہے ہیں، ان کا کہناہے کہ اسی یونیورسٹی کے ۲۷/ طلبہ مسلمان ہوگئے ہیں۔ان کی زبانی سنئے ۔ ?میں نے یکم نومبر ۲۰۰۰۷/ کو یونیورسٹی میں لیکچر دیا۔ (وہ اسلامی عالم ، پروفیسر یا امام نہیں ہے) میں نے اسلا م کے بارے میں بتایااور طلبہ کو کہا اگر کوئی مسلمان ہونا چاہئے تو وہ یہ ایمان رکھے کہ اللہ ایک ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے آخری رسول ہیں۔ پھر میں نے کلمہ شہادة :?لاالہ الا اللہ محمد الر سول اللہ ? پڑھ کر ان کو بتایا کہ جو اسے پڑھے گا وہ مسلمان ہوجائے گا۔ میں نے جاپانی طلبہ کو کہا کہ میرے پڑھنے کے بعد تم سب بھی پڑھو، سبھی ۲۷/ طلبہ نے : ? لاالہ الا اللہ محمد الر سول اللہ ? پڑھا?۔ میں نے بھائی سے پوچھا کہ کیا آپ نے ان کو ان کے کلمہ پڑھنے پر مبارکباد دی اور ان سے پوچھاکہ کیا تم سبھی نے اسلام قبول کرلیا؟ تو اس نے کہا کہ میں نے ایسانہیں کیا۔ ان کا دعوی ہے کہ میں نے اس طرح سے تقریبا ۳۵۰/جاپانیوں کو مسلمان بنایا۔  میرا سوال یہ ہے کہ(۱) کیا وہ سب جاپانی مسلمان ہوئے یا نہیں؟


 


(۲) اگر میں کسی سے کہوں کہ میرے کلمہ شہادة:?لاالہ الا اللہ محمد الر سول اللہ ? پڑھنے کے بعد تم بھی پڑھو اور وہ پڑھتا/ پڑھتی ہے تو کیااس کے میرے الفاظ دہرانے سے یہ کہنا کافی ہوگا کہ وہ مسلمان ہوگیایا ہوگئی؟


 


واضح رہے کہ جاپان میں کسی کو کلمہ شہادة پڑھنے کے لیے کہنا آسان ہے ، اس کے بعد جب آپ ان سے کہیں کہ کیا آپ مسلمان ہوگئے تو کہتے ہیں کہ کیا نہیں؟ اللہ کا شکر ہے کہ جاپان میں انفرادی طورپر بہت سے مسلمان بھائی ور بہنیں اور اسلامی تنظمیں اور مساجد اسلامی تعلیمات کو فروغ دے رہی ہیں اور بہت سے جاپانی اسلامی سینٹر جاپان ٹوکیو اور جاپان کی دیگر مقامات میںآ کر کلمہ شہادة پڑھ کر اسلام میں داخل ہورہے ہیں۔

Published on: Mar 5, 2008

جواب # 3065

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 227/ د= 198/ د


 


ایمان دل سے یقین کرنے کو کہتے ہیں، ایمان لانے کا مطلب اللہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر یقین رکھنا اللہ پر ایمان لانے کا مطلب صرف اللہ تعالیٰ کو لائق عبادت سمجھنا اوراسی کی بندگی کرنا۔ رسول پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو اللہ کا پیغمبر یقین کرنا اور جو کچھ پیغام احکام وہدایات کی شکل میں اللہ کی طرف سے وہ لائے ہیں، ان کو دل سے حق اور سچ سمجھنا اور اسی کے مطابق اللہ کی بندکی کرنا اور اپنی زندگی گذارنا۔ مذکورہ یقین کے ساتھ زبان سے اقرار کرنے اور کلمہ پڑھ لینے سے انسان مسلمان ہوجاتا ہے۔


(۱) مذکورہ یقین کے بغیر صرف زبان سے کلمہ پڑھ لینا کافی نہیں ہے، بلکہ دل سے اس پر یقین کرنا بھی ضروری ہے۔


(۲) الفاظ دہرانے سے نہیں، بلکہ دل میں یقین کے ساتھ زبان سے اقرار کرنے پر اس کو مسلمان کہیں گے اور سمجھیں گے۔


(۳) اس طرح دہرانے یا کہہ لینے سے انسان مسلمان نہیں ہوتا۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات