عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

Pakistan

سوال # 3007

عرض یہ ہے کہ میں ایک گناہ گار لڑکا ہوں، لیکن میں تبلیغ بھی کرتاہوں، لوگوں کو گناہوں سے روکتاہوں اور نیک کام کی دعوت دیتاہوں۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ایک آدمی قیامت کے دن لایاجائے گا اور اسے آگ میں ڈال دیاجائے گا تو اس کی آنتیں آگے سے نکل پڑیں گی، دوسرے جہنمی اس سے پوچھیں گے کہ تم تو ہم کو نیک کی تبلیغ کرتے تھے پھر اس عذاب میں؟ تو وہ کہے گا کہ میں تم کو تو دعوت دیتاتھا، لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتاتھا ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟ اگر ہے ! تو کیا میں دوسروں کو دعوت نہ دوں؟کیا دعوت دے کر عمل نہ کرنے پر یہ عذاب ہو رہاہے؟ ایک شخص دعوت دے کر اتنے فضائل حاصل کررہاہے، لیکن کیا عمل نہ کرنے کی وجہ سے عذاب کا مستحق ہوگا؟ براہ کرم، اس پر روشنی ڈالیں۔

Published on: Mar 10, 2008

جواب # 3007

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 327/ ھ= 237/ ھ


 


یہ مضمون حدیث شریف میں ہے اور صحیح ہے، یہ حدیث اور اس مضمون کی دیگر احادیث نیز آیاتِ مبارکہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ واعظ (گناہوں سے روکنے والے اور نیکی کی طرف توجہ دلانے والے شخص) کو بے عمل ہونا چائز نہیں، لیکن اس کو تبلیغ کرنا بھی جائز ہے یا نہیں؟ اس مضمون سے اس کا حکم معلوم نہیں ہوتا، ہاں البتہ دیگر نصوص سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خواہ خود عمل نہ کرسکے مگر اس حالت میں تبلیغ میں لگا رہے کہ اللہ پاک اسی کی برکت سے مجھ کو عمل کی توفیق عطا فرمادے گا، اور تبلیغ کے ساتھ ساتھ سچی پکی توبہ واستغفار کا اہتمام بھی کرتا رہے، تو ان شاء اللہ موٴاخذہ اخروی بلکہ عذابِ دنیاوی سے بھی اللہ پاک محفوظ فرمادے گا۔ وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات