عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

India

سوال # 170164

ہمارے شہر کی ایک مسجد میں شہر کی شور'ی کے ساتھی نے جمعہ کے بیان میں کہا کہ گھر اور مسجد کی تعلیم اللہ کے لئے شہید ہونے سے بڑا عمل ہے ۔اور دلیل میں انہوں نے اس حدیث کو پیش کیا جس میں فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن علماء کی قلم کی سیاہی شہیدوں کے خون سے زیادہ وزنی ہوگی۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا گھر اور مسجد کی تعلیم کی جو اہمیت ان صاحب نے بتائی ہے وہ درست ہے یا غلو فی الدین ہے ؟اوردلیل کے طور پر جو حدیث پیش کی ہے اس کی یہ تشریح صحیح ہے ؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔

Published on: May 13, 2019

جواب # 170164

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:860-703/sn=9/1440



گھر میں اسی طرح مسجد میں کوئی معتبر دینی کتاب پڑھنے کا معمول بہت اچھا اور مفید ہے؛ لیکن اسے اللہ کے لئے شہید ہونے سے بڑا عمل قرار دینا غلو اور حد سے تجاوز ہے، اس پر جو دلیل پیش کی گئی ہے وہ بے جوڑ ہے، وہ مدّعیٰ پرکسی بھی طرح منطبق نہیں ہے ، بہرحال اس طرح کی بے حوالہ باتوں کے بیان سے احتراز ضروری ہے ؛ بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ بیان کا اختیار تو صرف ایسے عالم دین ہی کو دیا جائے جو قرآن کریم ،احادیث نبویہ اور شراحِ حدیث کی تشریحات کی روشنی میں بیان کی استطاعت رکھتے ہوں یا پھر بیان کرنے والے کے لئے دائرہ متعین ہو کہ انھیں فلاں فلاں کتاب (مثلا فضائل اعمال ، حیاة الصحابہ وغیرہ)کی روشنی میں اور ان ہی کے حوالے سے بات کرنی ہے ، نیز انھیں پابند کیا جائے کہ وہ بیان سے پہلے ان کتابوں کا اچھی طرح مطالعہ کرکے جائیں، یا وہ کتاب پڑھ کر سنائیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات