عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

saudi arab

سوال # 169018

آپ کی خدمت ایک سوال عرض ہے کہ میں اکثر تبلیغ جماعت میں جاتاہوں اور وہاں اکثر ایک بات بولتے ہیں کہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا دین پھلانے ، اب ہم کو نبیوں والا کام کرنا ہے، جب کہ میرے علم میں ہے کہ علماء کو وارث انبیا ء بنایا گیاہے دین کا اور امتی نبی والا کام کیسے کرسکتاہے جب کہ اس کو ایسا کوئی حکم نہیں ہے کرنے کا، نبی کا کام تو سورہ جمعہ کی آیت نمبر ایک اور دو میں بتا یا گیاہے کہ امتی کے لیے نہیں ہے۔ براہ کرم، قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

Published on: Mar 25, 2019

جواب # 169018

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:699-6660/L=7/1440



سورہ آل عمران میں اس امت کو خیرامم کا لقب دیتے ہوئے اللہ رب العزت فرماتے ہیں :



کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ وَلَوْ آمَنَ أَہْلُ الْکِتَابِ لَکَانَ خَیْرًا لَہُمْ مِنْہُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَکْثَرُہُمُ الْفَاسِقُونَ (آل عمران: 110)



اور خیرامم ہونے کی وجہ اللہ نے یہ بتائی ہے کہ یہ امت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتی ہے یعنی اس امت کا یہ خصوصی امتیاز ہے دیگر امم اس میں شامل نہیں(اورامر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا وہی کام ہے جو انبیاء کرتے تھے )اسی وجہ سے اللہ نے اس کو ایمان باللہ سے بھی مقدم فرمایا ؛کیونکہ ایمان باللہ میں دوسری امتیں بھی شریک ہیں ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات