عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

Pakistan

سوال # 166567

ہماری مسجد میں 4 ماہ لگائے ہوئے تقریبا 15 ساتھی ہیں۔ روزانہ جڑنے اور اعمال میں شریک ہونے والے تقریبا 6 احباب ہیں۔ مسجد کے جو امیر طے ہیں وہ نہ تو روزانہ وقت دے پاتے ہیں اور نہ ہی کسی عمل میں پابندی رکھتے ہیں۔ ان کے بعد مسجد کے ایک ساتھی ہیں جو بہت فعال ہیں۔ ما شائاللہ بہت کام بھی کرتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہیکہ وہ کام بڑوں سے ملی ہوئی ترتیب کے خلاف کرتے ہیں۔ مثلاُ ایک دفعہ وہ جماعت میں گئے اور جماعت کو بتائے بغیر پیدل جماعت کی نصرت کے لئے چلے گئے ۔ سہ روزہ پورا ہو گیا اور وہ بعد میں آئے ۔ ابھی رائیونڈ میں ہمارے حلقے کا جوڑ تھا۔ جوڑمیں جا کر وہاں 3 ساتھیوں کو لیکر میاں چنوں ، مولانا طارق جمیل دامت برکاتھم کی طرف چلے گئے ۔ باقی ساتھیوں کو نہ بتایا۔ یھاں اسلام آباد کے اجتماع میں وہ بھت محنت کرتے رہے ۔ مگر نئے ساتھیوں کو چھوڑ کر بعد میں اکیلے آئے ۔ نہ تو ساتھیوں کا انتظام کی کوئی پرواہ نہ ہی خدمت کی کوئی ترتیب بنائی۔ مجھے 3 سال ہو گئے اس محلے میں آئے ۔ ابھی تک کام چل رہا ہے ۔ یہ ساری باتیں اپنے مسئلے کے متعلق پوچھنا چاہتا ہوں۔ وہ یہ کے میں نے ان سے پیار سے کہا کے آپ اس طرح سے کرتے ہیں اور مسجد کا کام آکے نہیں بڑھ رہا۔ ہم اپنے پرانوں کو بھی نہیں جوڑ سکتے ہمیں سوچنا چاہیے ۔ جو پرانے جوڑ میں گئے تھے وہ میاں چنوں گئے انھوں نے کام کی بات بھی نہ سنی اور نہ کوئی کام کرنے کا ان کا ذہن بنا۔ جب وہ ناراض ہو گئے تو میں نے ان کی خوشامد سے بات اس وقت بدل دی۔ اب جب مشورہ ہوتا ہے تو وہ بیت باتیں سناتے ہیں۔ کہ جو دوسروں کو ٹوکے ، تجسس کرے ، وغیرہ وغیرو وہ اس کام میں چل نہیں سکتا اور فلاں فلاں۔
میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرا ان سے بات کرنے کو دل نہیں کرتا۔ میں سوچ رہا تھا کے کسی دوسری مسجد کے ساتھ جڑ جاؤں۔ مگر ابھی اسی مسجد میں ہوں۔ حضرت میں سوچتا ہوں مجھے ان کو نیہں کہنا چاھیے تھا مگر میرے دل میں ہر وقت آگ لگی رہتی تھی۔ نماز میں بھی اسی کی طرف سوچ جاتی تھی۔ وہ مسجد میں دروازے کے پاس بیٹھتے ہیں۔میں ان کے پاس نہیں جاتاتھا۔ وہ ناراض ہیں۔ وہ امیر مسجد نہیں مگر کام بہت کرتے ہیں۔ میرا یہ ہیکہ میں بس 5 اعمال میں جڑ رہا ہوں۔ وہ کسی طرف جانے کا کہتے ہیں تو میرا عزر ہوتا ہے تو بھی ناراض ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ بلکل اچھے نہیں لگتے ان سے بات کرنے کو دل نہیں کرتا یہ کیا خود پسندی ہے یا کو ئی اور بیماری؟ میں نے کبھی اس کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی کبھی کسی سے پوچھا ہے ۔ میں کیا کروں کے میں ٹھیک ہو جاؤں؟ اور اپنے اس ساتھی کی بات نہ سننا یا ماننا گناہ ہے ؟ آپ سے درخواست ہے کہ اس مسئلہ کو دیکھ کر میری راہنمائی فرمائیں۔

Published on: Nov 22, 2018

جواب # 166567

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 300-49T/B=3/1440



بظاہر آپ کے اندر خود پسندی کی بیماری معلوم ہوتی ہے ۔ آپ امیر مسجد سے مل کر معافی تلافی کرکے اپنے دل کو صاف کرلیں۔ حدیث شریف میں آیا ہے تم لوگ اپنے سینوں کو کینے سے اس طرح پاک و صاف رکھو جیسے کہ پرندوں کا سینہ ہوتا ہے۔ دوسری حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن عمر کو فرمایا ”تم سے ہو سکے تو اس طرح زندگی گزارو کہ صبح سے شام کسی کی طرف سے تمہارے دل پر کھوٹ نہ آجائے اور شام سے صبح تک اس طرح زندگی گزارو کہ کسی کی طرف سے تمہارے دل پر کھوٹ نہ آئے“۔ ان احادیث کو سامنے رکھیں اور اسی کے مطابق اپنی زندگی بنائیں ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات