عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

Pakistan

سوال # 165946

میرا سوال یہ ہے کہ فیس بک کا استعمال دین کی تبلیغ و اشاعت کے لئے جائز ہے یا نہیں؟ فیس بک پر ایک طرف اگر کوئی اصلاح کی غرض سے پوسٹ دیتا ہے تو دوسری طرف فیس بک پر غیر اسلامی مواد بھی کثرت سے پایا جاتا ہے اور گویا کہ ایک بندہ دوسروں کو فیس بک استعمال کرنے کا جواز فراہم کرتا ہے کہ لوگ یہ کہیں کہ ہم تو دینی معلومات کی غرض سے استعمال کرتے ہیں حالانکہ اس میں بہت سارا فحش مواد بھی نہ چاہتے ہوئے بھی نظروں کے سامنے آتا ہے ۔ جس طرح لوگ مولانا طارق جمیل صاحب کے بیان کے بہانے ٹی وی کا استعمال اور گھر میں رکھنے کا جواز بناتے ہیں۔ اور کیا یہ بات بالکل ایسی نہیں کہ کوء سنیما حال میں دین کی تبلیغ کرے ؟ اس مسئلے پر علمائے دیوبند کی لکھی ہوئی کوئی تفصیلی کتاب ہو تو برائے کرم نشاندہی فرما دیجئے ۔ خیر

Published on: Nov 6, 2018

جواب # 165946

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:177-162/L=2/1440



جن امور کے انجام دینے میں ناجائز امور میں مبتلی ہوجانے کا اندیشہ ہو ایسے امور کے تعلق سے ہمارے اکابر کا موقف یہی رہاہے کہ ان کی انجام دہی سے گریز کیا جائے اور درحقیقت یہ ضابطہ ایک حدیث میں مذکور ہے ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے :الحلال بین والحرام بین وبینہما مشبہات لا یعلمہا کثیر من الناس فمن اتقی المشبہات استبرأ لدینہ وعرضہ ،ومن وقع في الشبہات کراع یرعی حول الحمی یوشک أن یواقعہ ألا وان لکل ملک حمی،ألا ان حمی اللہ في أرضہ محارمہ․․․(صحیح البخاری :۱/۱۳ط:أشرفی دیوبند )نیز فقہاء نے بھی صراحت کی ہے جو امر سنت اور بدعت کے درمیان دائر ہو اس میں سنت کا ترک بدعت کے ارتکاب سے راجح ہوتا ہے ۔قال في الشامی:َلأنہ اذا تردد الحکم بین سنة وبدعة کان ترک السنة راجحا علی فعل البدعة․(شامی:۲/ ۴۰۹ط: زکریا دیوبند) اور فقہاء کا یہ بھی ضابطہ ہے کہ جو محظور کا سبب ہو وہ بھی محظور ہی ہے ۔وماکان سبباً لمحظور فہو محظور․(شامی:۹/۵۰۴،کتاب الحظر والاباحة،ط:زکریا دیوبند )اس موضوع پر لکھی گئی کسی تفصیلی کتاب کا ہمیں علم نہیں ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات