عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

India

سوال # 165537

میرا ایک دوست /رفیق کار ہے جس کے ساتھ کبھی کبھار میرا رویہ بہت سخت ہوجاتاہے کچھ معاملات میں جیسے کہ وقت پر نماز پڑھنا ، میرے یاد دلانے کے باوجود کام کی وجہ سے نماز قضا کرلینا، اور کچھ دوسرے اصولوں میں جیسے کہ میری گاڑی میں کوئی سامان رکھنے اور اس کو یاددلانے پر اس کو نہ نکالنے پر وغیرہ۔ وہ میرا بہت قریبی ہے اور میں اس کو حکمت سے بھی سمجھا تاہوں، لیکن اکثر اوقات میرا رویہ سخت ہوجاتاہے اور یہ میری عادت بن چکی ہے، کیا میں غلط کررہاہوں اگر چہ اس بارے میں میرے دوست کو برا لگے یا برا نہ لگے ؟

Published on: Oct 23, 2018

جواب # 165537

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:87-60/L=2/1440



اچھے کام کی دعوت حکمت اور اچھی نصیحت کے ذریعہ دینی چاہیے ،اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:أدع الی سبیل ربک بالحکمة والموعظة الحسنة․؛اس لیے آپ بھی اپنے دوست کے ساتھ ویسا ہی برتاؤ کریں ،اکثر اوقات نصیحت میں سختی سے کام لینا مناسب نہیں ،اس کی بنا پر رفتہ رفتہ دوسرا شخص بھی سخت ہوجاتا ہے اور اس کو نصیحت کا اثر نہیں ہوتا ۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات