عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

India

سوال # 165299

مفتی صاحب! مجھ سے کبیرہ گناہ ہوئے، میں نے اللہ سے معافی مانگی اور توبہ کیا۔ مجھے اپنے گناہوں پر شرمندگی ہو رہی ہے۔ مجھے ایک دن میرے دادا مرکز لے گئے اور وہاں بیان ہوا میں آگے بیٹھا تھا پھر جو ساتھی بیان کررہے تھے انہوں نے میری طرف دیکھا اور بولا کہ یہ بچہ بہت قیمتی لگ رہا ہے۔ میرا نام پوچھا پھر میں نے چار مہینہ جماعت کا ارادہ کیا، پھر مجھے اپنے گناہوں پر افسوس ہوا، پھر مَن میں خیال آیا کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ مجھے قبول کر رہا ہے، پھر جب دعاء ہوئی اور گھر آتے وقت میرے دادا نے بھی یہی بات مجھے سے کہی کہ اللہ تجھے قبول کر رہا ہے، کیا یہ سچ ہے کہ اللہ مجھے قبول کر رہا ہے۔

Published on: Oct 17, 2018

جواب # 165299

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa : 48-14T/B=2/1440



گناہوں پر آپ کی ندامت و شرمندگی اور اللہ سے معافی کا یہ نتیجہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے آپ کے گناہوں کو معاف فرما دیا ہے اور آپ کو نیک کام میں لگا دیا ہے۔ یہ اللہ کے یہاں آپ کی قبولیت کی علامت ہے۔ آپ اللہ کا شکر ادا کریں اور آئندہ اپنے گناہوں پر ندامت و افسوس کا اظہار کرتے رہیں۔ بندہ کے لئے یہ بڑی اچھی صفت ہے۔ اللہ تعالی آپ کو دینی اعتبار سے اور بھی ترقی عطاء فرمائے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات