عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

india

سوال # 164335

ہماری مسجد میں تمام لوگوں کے مشورہ کے بعد عشا کی نماز کے بعد دعا سے پہلے دو تین منٹ کے لئے مسائل کی کتاب پڑھی جاتی ہے جس سے لوگوں کو مسائل کے بارے میں پتا چلتا ہے | کسی بھی مقتدی کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے | مہربانی کر کے بتائیں کے اس میں کوئی ناجائز عمل تو نہیں ہے ؟

Published on: Sep 12, 2018

جواب # 164335

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:1385-1171/D=12/1439



جن نمازوں کے بعد سنتیں ہیں ان میں فرض کے بعد بلا انقطاع یعنی متصلاً سنن پڑھنا مسنون ہے صرف اللہم انت السلام ومنک السلام الخ تک پڑھنے کی گنجائش ہے اس کے علاوہ کسی اور عمل سے انقطاع نہیں ہونا چاہیے یہی وجہ ہے کہ لمبی دعا کرنے کو منع کیا گیا ہے کہ سنتوں میں تاخیر ہوجائے گی، پس فرض نماز کے بعد کتاب سنانے کا معمول بنالینا مناسب نہیں ہے، اس سے سنتوں میں تاخیر ہوجائے گی اور سب مقتدی مجبور ہوں گے کہ پہلے کتاب سنیں پھر سنت پڑھیں ایسا التزام کراہت کے درجہ میں ہے، قال في الدر ویکرہ تاخیر السنة إلا بقدر اللہم أنت السلام الخ (ج۲ص۲۴۶الدر مع الرد، زکریا)



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات