عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

india

سوال # 159084

حضرت، ہم مہاراشٹر کے ایک شہر میں رہتے ہیں اور الحمد للہ! تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہم جس محلے میں رہتے ہیں وہاں کی مسجد میں اہل سنت کی مسجد ہے۔ اس مسجد میں اہل سنت کے حساب سے نماز ادا ہوتی ہے اور امام کی قرأت کا تلفظ بھی مخرج کے حساب سے نہیں۔ ہمارے گھر سے ۱۵/ منٹ کی دوری (پیدل کا فاصلہ) پر الحمد للہ! تبلیغی جماعت کی مسجد ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے والد کو اہل سنت کی مسجد میں نماز ادا کرنے میں دقت ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ان کا نماز میں دھیان نہیں لگتا اور تبلیغی جماعت میں والد صاحب ہر بار جانہیں سکتے کیونکہ ان کو ہارٹ کی تکلیف ہے اور پیدل چلنے سے ڈر بھی لگتا ہے۔ اسی کشمکش میں ان کی نماز فوت ہو رہی ہے۔
برائے مہربانی جلد از جلد اس کا کوئی حل بتائیں، کرم ہوگا۔

Published on: Feb 27, 2018

جواب # 159084

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 623-529/sd=6/1439



 اہل سنت کی مسجد سے مراد اگر بریلوی کی مسجد ہے ، تو اگر اس کے امام کے عقائد شرکیہ نہیں ہیں، وہ نماز میں کوئی ایسی غلطی نہیں کرتا ہے ، جس سے نماز فاسدہوجاتی ہے ، تو آپ کے والد صاحب کو تنہا نماز پڑھنے کے بجائے اسی کے پیچھے جماعت سے نماز پڑھنی چاہیے ، ایسا بھی کیا جاسکتا ہے کہ جتنی نمازیں صحیح العقیدہ امام کے پیچھے دوسری مسجد میں پڑھی جاسکتی ہیں، اسی میں پڑھیں اور جس نماز میں دوسری مسجد جانا دشوار ہو، اس میں قریب کی مسجد میں پڑھ لیں اور مطلق نماز چھوڑدینے کی تو بالکل گنجائش نہیں ہے ۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات