عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

INDIA

سوال # 158790

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیان عظام درج ذیل مسئلے کے بارے میں کہ زید تعلیم کی غرض سے لکھنئو میں مقیم ہے اور جہاں وہ رہتا ہے وہاں ایک مدرسہ ہے اور اسی سے متصل مسجد ہے وہاں فجر اور عصر میں دعا کے بعد حدیث پڑھنے کا معمول ہے اور اب ایک نئی روایت یہ شروع ہوئی ہے کہ فجر اور عصر کے علاوہ ہر نماز میں سلام پھیرنے فوراً بعد مدرسہ کا ایک بچہ صف کے آگے کھڑا ہوکر پہلے عربی میں حدیث پڑھتا ہے اور پھر اس کا اردو میں ترجمہ کرتا ہے اس میں پریشانی یہ ہے کہ اگر کوئی چھوٹی ہوئی رکعت پوری کرتا ہے تو اس کو خلل واقع ہوتی ہے تو کیا اس حالت میں یہ حدیث پڑھنا ضروری ہے یا یہ قرآن و حدیث یا صحابہ کے عمل سے ثابت ہے یا پھر ہمارے فقہا نے اس کی کہیں اجازت دی ہے ۔ برائے مہربانی اس سوال کا جواب دے کر امت کی صحیح رہنمائی کریں۔

Published on: Feb 12, 2018

جواب # 158790

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 534-435/SD=5/1439



 سلام پھیرنے کے فورا بعد حدیث پڑھنا اور اس کا ترجمہ سنانا جس میں مسبوق کی نماز میں خلل واقع ہو؛ صحیح نہیں ہے ،اگر مسجد میں اصلاح و تربیت کا کوئی نظام بنانا ہو،تو جن نمازوں کے بعد سنتیں نہیں ہیں ، اُن میں دعا کے بعد اور جن نمازوں کے بعد سنتیں ہیں، اُن میں سنتوں سے فارغ ہونے کے بعد بنانا چاہیے ۔ ( مستفاد : فتاوی محمودیہ :۳۲۰/۴، ط: ڈھابیل ) 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات