عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

India

سوال # 157978

کیا میں اللہ کے راستے میں چار مہینے کے لیے بیرون ملک جاسکتاہوں؟ مگر میری بیوی مجھے جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہے، میرے گھرمیں میرے والد اور والدہ ہیں ، اور میری بیوی کی والدہ اپنے گھر میں ہیں اور وہ دونوں جگہوں پر رہ سکتی ہیں۔ میرا چھ مہینے کا بچہ ہے، میری بیوی کے دوست نے اس کو کہا ہے کہ شوہر کا ایک رات کے لیے بھی دور رہنا جائز نہیں ہے، تو کیا بیوی کی اجازت کے بغیر جانا درست ہے؟
براہ کرم، رہنمائی فرمائیں۔

Published on: Jan 27, 2018

جواب # 157978

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:414-434/M=5/1439



آپ چار ماہ کے لیے جماعت میں جاسکتے ہیں، بیوی اگر اتنی مدت کے لیے اجازت نہیں دے رہی ہے تو سردست تین دن یا عشرہ یا ایک چلہ کے لیے آمادہ کرلیں اور بیوی کی اجازت کے بغیر بھی جاسکتے ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ بیوی کو راضی کرلیں، بیوی کو بھی چاہیے کہ بخوشی اجازت دیدے، سعادت مند بیوی وہ ہوتی ہے جو خیر کے کاموں میں شوہر کا تعاون کرے اور شوہر کی اطاعت کو باعث فخر سمجھے اور آپ (شوہر) کے لیے ضروری ہے کہ جانے سے پہلے بیوی بچے کے خرچ کا انتظام کرکے جائیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات