عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

India

سوال # 156216

ہماری بستی کی مسجد میں اکثر ہوتا ہے کہ تبلیغی جماعت کے حضرات نماز کے وقت تقریر کرتے ہیں جس سے نماز میں دیری ہوتی ہے ۔آپ بتائیں کہ نماز کے وقت تقریر کرنا اور نماز میں دیری کرنا درست ہے کہ نہیں؟

Published on: Nov 22, 2017

جواب # 156216

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:193-148/N=3/1439



 تبلیغی جماعت کے لوگ عا م طور پر نمازکے بعد سنتوں سے فارغ ہوکر تقریر کرتے ہیں یا کتابی تعلیم کرتے ہیں، نماز سے پہلے وہ نہ تقریر کرتے ہیں اور نہ کتابی تعلیم کرتے ہیں۔ اور اگر آپ کے یہاں تبلیغی جماعت کے لوگ نماز با جماعت کے وقت نماز سے پہلے تقریر کرتے ہیں یا کتابی تعلیم کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے نماز کی جماعت مقررہ وقت سے موٴخر ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے مختصر وقت لے کر جماعت کی نماز میں شرکت کے لیے آنے والوں کو یا وضو باقی رکھنے میں ریاحی مریضوں وغیرہ کو زحمت ہوتی ہے اور جن نمازوں میں فرض سے پہلے سنتیں ہیں، ان میں سنتیں پڑھنے والوں کو بھی زحمت ہوتی ہے تو یہ طریقہ جماعت والوں کا صحیح نہیں،حدیث میں جمعہ کے دن مسجد میں نماز سے پہلے (تعلیمی) حلقے لگانے سے منع فرمایا گیا ہے (صحیح ابن خزیمہ ۳: ۱۵۸، ۱۵۹، حدیث نمبر: ۱۸۱۶، اور سنن ابن ماجہ، ص ۷۹)؛ تاکہ جو لوگ جمعہ کے لئے آچکے ہوں، ان کی نماز اور دیگر انفرادی عبادات وغیرہ میں کوئی خلل نہ ہو؛ لہٰذا آپ کی بستی میں جماعت والوں کو چاہیے کہ نماز کے وقت تقریر نہ کیا کریں؛ بلکہ نماز کے بعد جب سب لوگ سنتوں سے فارغ ہوجایا کریں تو تقریر وغیرہ کیا کریں؛ تاکہ جماعت کے کسی عمل سے نماز پڑھنے والوں کی نماز میں کوئی خلل نہ ہو اور نہ ہی مسجد کے عام نمازیوں کو کوئی زحمت ہو۔



عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نھی أن یحلق یوم الجمعة قبل الصلاة(سنن ابن ماجة، باب ما جاء فی الحلق یوم الجمعة قبل الصلاة والاحتباء والإمام یخطب، ص ۷۹، ط: المکتبة الأشرفیة دیوبند)، عن عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ قال: نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن الشراء والبیع فی المساجد وأن تنشد فیھا الأشعار وأن ینشد فیھا الضالة وعن الحلق یوم الجمعة قبل الصلاة (صحیح ابن خزیمة، باب الزجر عن الحلق یوم الجمعة قبل الصلاة،۳: ۱۵۸، ۱۵۹، ط: المکتب الإسلامي، بیروت ودمشق)، قولہ:”لقرآن أو تعلیم“: لأن المسجد بني للصلاة وغیرھا تبع لھا بدلیل أنہ إذا ضاق فللمصلي إزعاج القاعد للذکر أو القراء ة أو التدریس لیصلي موضعہ دون العکس(رد المحتار، کتاب الدیات، باب ما یحدثہ الرجل فی الطریق وغیرہ، ۱۰: ۲۶۱، ط: مکتبة زکریا دیوبند)، وکذا الجہر الغیر المفرط-ممنوع- إذا کان فیہ إیذاء لأحد من نائم أو مصلّ الخ (سباحة الفکر في الجہر بالذکر، مجموعة رسائل اللکنوي ۳:۴۹۰)۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات