عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

India

سوال # 155018

سوال یہ ہے کہ جمعرات کو سبھی تبلیغی حضرات اپنے گھر کے بجائے مسجد میں قیام کرتے ہیں جسے شبگزائی کہتے ہیں، کیا ایسا کوئی عمل قران و حدیث سے سے ثابت ہے ؟ کیا ایسا کرنا صحیح ہے ؟

Published on: Oct 22, 2017

جواب # 155018

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:20-40/N=1/1439



 شب جمعہ(جمعرات کے بعد آنے والی رات) یقیناً ایک بابرکت رات ہے؛ لیکن اس رات لوگوں کا اہتمام کے ساتھ مساجد میں جمع ہونا حضور صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین وغیرہم سے ثابت نہیں ہے،شب قدر،رمضان کے اخیر عشرے کی طاق راتوں،عید الفطر اور عید الاضحی کی رات اور شب براء ت وغیرہ کی طرح شب جمعہ میں بھی ہر شخص کو اپنے اپنے گھر انفرادی طور پر نوافل، تلاوت قرآن پاک، ذکر واذکار اور دعاوٴں کا اہتمام کرنا چاہیے، اس کے لیے مساجد میں جمع ہونے کی ضرورت نہیں؛ البتہ اگر کبھی کبھار کسی مسجد میں کسی مستند ومعتبر عالم کا بیان ہو تو اس میں شرکت کرنے میں کچھ حرج نہیں، اور ہر شب جمعہ کو اس کا اہتمام والتزام نہیں ہونا چاہیے۔



ویکرہ الاجتماع علی إحیاء لیلة من ھذہ اللیالي المتقدم ذکرھا فی المساجد وغیرھا؛ لأنہ لم یفعلہ النبي صلی اللہ علیہ وسلم ولا أصحابہ الخ (مراقی الفلاح مع حاشیة الطحطاوي ص ۴۰۲، ط: دار الکتب العلمیة بیروت)، وصرح بکراھة ذلک فی الحاوی القدسي (رد المحتار، کتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، ۲:۴۶۹، ط: مکتبة زکریا دیوبند)۔





 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات