عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

india

سوال # 153530

میرا تین مہینہ پہلے امتحان تھا تو میں نے نیت کی تھی کہ اللہ مجھے پاس کرادے تو میں جماعت میں جاوٴں گا بس یہی نیت کی تھی۔ پھر میں نے ایک دن یہ نیت کی کہ اللہ مجھے پاس کرادے اور ٹاپر بنادے تو میں چالیس دن کی جماعت میں جاوٴں گا، پھر اس کے بعد لگ کر میں نے چالیس دن زیادہ کہہ دیا تو میں نے نیت کی کہ اللہ مجھے پاس کرا دو تو میں چلا جاوٴں گا چاہے وہ چالیس دن ہو یا دس دن، پھر مجھے پتا چلا کہ استخارہ کرنے سے جلد سے جلد جانا چاہئے، مجھے اس کے متعلق کچھ زیادہ پتا نہیں تھا میں بہت زیادہ ڈر گیا اور دس دنوں کی جماعت میں چلا گیا پر اب مجھے لگ رہا ہے کہ میں نے تین بار نیت کری تھی تو مجھے تینوں بار جانا پڑے گا۔ اب مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ میں کیا کروں؟ میں چاہتا ہوں کہ آپ میری پریشانی کا حل بتادیں، آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔

Published on: Aug 15, 2017

جواب # 153530

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1279-1187/H=11/1438



محض نیت کرلینے کی وجہ سے جماعت میں جانا واجب نہ ہوا، تین مرتبہ نیت کی تو تین مرتبہ جانا بھی لازم نہ ہوا۔ البتہ جب کہ کارِ خیر (جماعت میں جانے) کی نیت کرلی تو اچھا یہی ہے کہ جتنے دن کی نیت کی ہے اتنے یا اس سے کچھ زائد وقت لگادیں تو ان شاء اللہ اس سے فائدہ بہت ہوگا، دعاوٴں کا اہتمام بھی کریں گے تو امید ہے کہ اصلاح کے ساتھ ساتھ دنیا وآخرت کی بھلائیاں بھی حاصل ہوں گی، امتحان میں کامیابی کی بھی توقع ہے۔ دین کا کام اخلاص سے اصول کے مطابق کیا جائے تو پریشانیاں بھی اللہ پاک دور فرمادیتا ہے، آپ مقامی ذمہ داران کے مشورہ سے مل جل کر جماعت کے کام میں لگے رہیں اور اپنے اوقات کو ضائع ہونے سے بچاتے رہیں۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات