عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

Indian

سوال # 152992

تبلیغی جماعت میں جانے کو جہاد اکبر یا جہاد اصغر کہنا کہاں تک جائز ہے؟ تبلیغ جماعت کو کیوں نہ اصلاحی جماعت کہا جائے ؟
براہ کرم اس پر روشنی ڈالیں۔

Published on: Aug 14, 2017

جواب # 152992

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 1205-1177/B=11/1438



مذہب اسلام میں عام طور پر جہاد اسی کو کہا جاتا ہے کہ اسلام کا کلمہ بلند کرنے کے لیے اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر غیرمسلموں سے جنگ میں مدافعت کے لیے نکلے۔ وَذُرْوَةِ سَنَامِہِ الْجِہَادُ ویسے نفس امارہ کے خلاف چلنے اور اہل باطل کو زبان سے منھ توڑ جواب دینے کو بھی جہاد سے تعبیر کیا گیا ہے، مگر مجازاً، حقیقت میں ا سلامی جہاد وہی ہے جو اوپر ذکر کیا گیا، اس لیے جماعت میں نکلنے کو جہاد اکبر نہیں کہنا چاہیے، ہاں بقول آپ کے اصلاحی جماعت کہنا مناسب ہے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات