عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

India

سوال # 150062

(۱) ہمارے یہاں کے امیر صاحب سی ایل ایل (ccl) میں ملازمت کرتے ہیں، وہ بتا رہے تھے کہ ہم نے کسی عالم سے پوچھا کہ جماعت میں جانے کے لیے بیماری کی چھٹی کی درخواست لے کر جانا کیسا ہے؟ تو اس عالم نے بتایا کہ جا سکتے ہیں۔ دلیل یہ دیا کہ ہماری روح بھی تو بیمار ہوتی ہے اس کے علاج کے لیے ہم جماعت میں جارہے ہیں، تین دن کی بیماری کی چھٹی کے لیے میڈیکل سرٹیفکیٹ نہیں دینا پڑتا ہے، بس ایک ایپلیکیشن فارم بھر کر دینا پڑتا ہے کہ ہم بیمار تھے، تو کیا ایسے میں جماعت جانے کے لیے بیماری کی چھٹی کی درخواست لینا درست ہے؟ واضح رہے کہ اس تین دن کی چھٹی کی تنخواہ بھی ملتی ہے، تو کیا اس تین دن کی تنخواہ اس کے لیے حلال ہوگی یا حرام؟ حلال ہوگی تو کیوں؟ اور حرام ہوگی تو کیوں؟
(۲) کیا تین دن سے زیادہ بیماری کی چھٹی پر کسی بیماری کی جھوٹی میڈیکل سرٹیفکیٹ دینا کہ بخار تھا یا کسی اور بیماری کا بہانہ، تو کیا یہ جائز ہوگا؟ نیز ان دنوں کی تنخواہ کا کیا حکم ہوگا؟

Published on: Apr 23, 2017

جواب # 150062

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa: 715-696/B=7/1438



جس طرح جھوٹ بولنا جائز نہیں، اسی طرح جھوٹ لکھنا بھی جائز نہیں، جماعت میں جانے کے لیے بیماری کی چھٹی لینا جائز نہیں، جس عالم نے یہ بتایا کہ روح بھی تو بیمار ہوتی ہے اور اس کے لیے ہم جماعت میں جارہے ہیں صحیح نہیں۔ بیماری کی چھٹی تو اس لیے دی جاتی ہے کہ ملازم ایسا بیمار ہے کہ ڈیوٹی پر آنے کے لائق نہیں یعنی اس کی معذوری اور مجبوری پر چھٹی دی جاتی ہے، دعوت وتبلیغ جیسے مقدس کام میں آدمی جائے اور جھوٹی درخواست لکھے، یہ کسی طرح اس کے شایانِ شان نہیں ہے۔ صحیح وجہ جماعت میں جانے کی درخواست میں لکھنی چاہیے۔



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات