عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

Pakistan

سوال # 148397

فضائل اعمال اور فضائل صدقات میں ضعیف احادیث ہیں اور کچھ شرکیہ عقائد اور واقعات ہیں ایسا میں نے کئی علماء اکرام سنا بھی ہے جب کہ فضائل صدقات میں صحفہ نمبر ۶۶۰ پر ایک واقعہ میں نے پڑھا بھی ہے لیکن سب علماء اکرام نے تبلیغ اور اصلاح کے عمل کو افضل عمل ہی بتایا ہے ۔لیکن کیا ان کتابوں کو قرآن مجید یا صحیح بخاری اور صحیح مسلم جیس کتاب کو اہمیت دینا کیسا ہے ۔ِ خیراً کثیرا

Published on: Feb 16, 2017

جواب # 148397

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa ID: 511-526/SN=5/1438



”ضعیف احادیث“ تو ترمذی، ابوداوٴد، ابن ماجہ وغیرہ میں بھی ہیں، حالانکہ یہ کتابیں بھی پڑھی پڑھائی جاتی ہیں، ”ضعیف احادیث“ مطلقاً ناقابلِ عمل ہوں یہ تو کسی نے نہیں لکھا، اگر آپ کے نزدیک ”فضائل اعمال“ اور ”فضائل صدقات“ میں کچھ ایسی ”ضعیف احادیث“ ہوں جن پر محدثین کے اصول کے مطابق فضائل اعمال کے باب میں بھی اعتماد نہیں کیا جاسکتا ہے تو ان کی نشان دہی مع وجہ کرکے سوال کریں، اسی طرح اِن کتابوں میں جو شرکیہ عقائد و واقعات آپ کے نزدیک ہوں وجہِ شرک کی وضاحت کے ساتھ ان کی نشان دہی (بعینہمتن کے ساتھ) کریں، پھر ان شاء اللہ اس پر غور کیا جائے گا، ”فضائل اعمال“ اور ”فضائل صدقات“ کو قرآنِ کریم یا بخاری مسلم وغیرہ پر قطعاً اہمیت نہیں دی جاتی، یہ تو قرآن کریم کی آیتوں نیز بخاری ، مسلم اور دیگر کتبِ حدیث سے منتخب روایتوں پر مشتمل کتابیں ہیں، ان میں موضوع سے متعلق آیتیں اور احادیث جمع کردی گئی ہیں؛ اس لیے بہ غرضِ اصلاح ان کتابوں (فضائل اعمال اور فضائل صدقات) کو پڑھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔ 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات