عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

India

سوال # 145335

برائے مہربانی درج ذیل سوالات کے جوابات مرحمت فرمائیں۔
۱۔ کسی مستحب عمل کا کوئی شخص معمول بنالے تو اس عمل کا اس شخص کے حق میں کیا حکم ہوتا ہے ؟ کیا وہ مستحب ہی ہوتا ہے یا اس کا حکم بدل جاتا ہے ؟
۲- کوئی شخص دعوت و تبلیغ میں تھوڑا بہت حصہ لیتا ہو۔ کبھی گشت میں چلا گیا۔ کبھی جماعت میں نکل گیا وغیرہ تو ایسے شخص کے لئے اس کام کا کیا حکم ہوتا ہے ؟اگر بعد میں یہ کسی وجہ سے جیسے کسی مرض کے باعث یا مشغولی کے باعث یا تزکیہ کی لائن کی طرف رجحان زیادہ ہوا اور باوجود دعوت کی محنت کی عظمت و قدردانی دل میں رکھنے کے وقت نکالنا یا کم ہوگیا یا بالکل نہ رہا تو اب اس کا کیا حکم ہوتا ہے ؟ الگ الگ تفصیلات کا الگ الگ حکم ہوگا؟ تفصیل کے ساتھ مع دلیل عنایت فرمائیں۔بینواتوجروا

Published on: Oct 26, 2016

جواب # 145335

بسم الله الرحمن الرحيم

Fatwa ID: 07-09/M38=01/1438
(۱) مستحب عمل کا معمول بنا لینا پسندیدہ اور مستحسن ہے اتنی قید ہے کہ مستحب کو مستحب سمجھے اور واجب کی طرح التزام نہ کرے۔
(۲) دعوت و تبلیغ اور دین کے دوسرے کاموں میں جو شخص جتنا وقت دے گا اسی کے بقدر اجرو ثواب پائے گا اور جو کام اصول و آداب اور مواظبت کے ساتھ ہوتا ہے وہ مفید ہوتا ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات