عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

India

سوال # 13239



میرے والدین مجھے تین دن اور چالیس دن
جماعت میں جانے سے روکتے ہیں۔ کیا اس میں مجھے ان کی اتباع کرنی چاہیے یعنی مجھے
نہیں جانا چاہیے، وہ کہتے ہیں کہ میرے چلے جانے سے کاروبار میں نقصان ہوگا؟



Published on: Jun 11, 2009

جواب # 13239

بسم الله الرحمن الرحيم



فتوی: 977=919/ب



 



اگر کاروبار میں صرف نقصان کا اندیشہ ہے تو
للہ اس کو برداشت کرلینا چاہیے، ماں باپ کو۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ان شاء اللہ کوئی
نقصان نہیں ہوگا بلکہ مزید برکت ہوگی، نیز یہ ہے کہ جو چیز شرعاً واجب ہو اور ماں
باپ اس سے منع کریں تو اس کی اطاعت واجب نہیں ہے، ہرشخص کا اپنی اصلاح کرنا واجب
اور ضروری ہے، منجملہ اصلاح کے طریقوں میں سے جماعت بھی ایک طریقہ ہے لہٰذا لڑکا
اگر تین ماہ کے واسطے جماعت میں جائے (نیز یہ کہ گھر کی صورت حال اتنی بھی خراب نہیں
ہے کہ لڑکے کے چلے جانے سے ماں باپ بھوکے رہ جائیں گے) تو ماں باپ کا اس سے منع
کرنا جائز نہیں ہے۔



 وفي الدر المختار والرد: لا یحل سفر فیہ خطر
إلا بإذنھما وما لا خطر فیہ یحل بلا إذن ومنہ السفر في طلب العلم في رد المحتار
أنھما في سعة من منعہ إذا کان یدخلھما من ذلک مشقة شدیدة (
۶/۲۰۳ م زکریا دیوبند) وکذا في بہشتي زیور گیارہواں حصہ اختری:۱۴۷۔




واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات