عقائد و ایمانیات - دعوت و تبلیغ

Tanzania

سوال # 12791



 میرا سوال یہ ہے کہ ہم
کتابوں کے ذریعہ، میڈیا کے ذریعہ، مالی امداد کے ذریعہ دعوت کا کام کریں یہ کافی
نہیں۔کیا تبلیغی جماعت میں نکلنا ضروری ہے؟ سعودی شیخ عبدالعزیز بن باز نے ایک
سوال کے جواب میں لکھا ہے کہ تبلیغ والوں کے ساتھ وہی نکلے جس کو دین کا صحیح علم ہو
،کیوں کہ یہ لوگ جاہل ہوتے ہیں او ران کو عقیدے کا صحیح علم نہیں ہوتا۔ یاد رہے میں
جماعت سے تعلق رکھتا ہوں لیکن ہم کو ایسے بہت اشکالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو
بہت رنج ہوتا ہے کہ ہماری لا علمی کی وجہ سے اس کام کو لوگ سمجھ نہیں سکتے؟



Published on: May 24, 2009

جواب # 12791

بسم الله الرحمن الرحيم



فتوی: 942=796/د



 



کتاب تحصیل علم کا ذریعہ ہے اور میڈیا تشہیر
کا، غلط چیز کی ہو یا صحیح چیز کی۔ مالی امداد، رغبت اور حرص پیدا کرنے کے لیے ہوتی
ہے، لیکن دین پیدا ہونے کے لیے سب سے اہم چیز جو ہے وہ دین داروں کی صحبت ہے، اور یہ
صحبت زیادہ تر اس وقت ہوگی جب وقت اور پیسہ کی قربانی دے کر حاصل کی جائے، تبلیغی
جماعت میں اپنے وقت اور پیسہ کی قربانی دے کر نیک لوگوں کی صحبت میں رہ کر ایمان میں
پختگی اور عمل میں جماوٴ پیدا کیا جاتا ہے جو کم علم ہوتے ہیں، انھیں مزید علم
حاصل ہوتا ہے، جو عمل میں کچے ہوتے ہیں انھیں پختگی حاصل ہوتی ہے، جو ایمان ویقین
کے لحاظ سے کمزوری کا شکا رہوتے ہیں انھیں ایمانی قوت حاصل ہوتی ہے، جس طرح جماعت
میں کم علم یا جاہل لوگ نکلتے ہیں اسی طرح اہل علم حضرات کی بھی خاصی تعداد نکلتی
ہے، اس طرح جماعت میں نکلنے سے بیک وقت دین سیکھنے اس پر عمل کرنے کے ساتھ دوسروں
کو سکھلانے اور پہنچانے کا ثواب بھی ملتا ہے۔ لہٰذا آپ اشکالات کی اُدھیڑبُن میں
نہ پڑیں ارو اصول مقررہ کے مطابق جماعت میں وقت لگائیں اور کسی متقی عالم، بزرگ سے
رابطہ قائم کرلیں اس سے خط وکتابت رکھیں اور جب کچھ موقعہ میسر آجائے اس کی صحبت میں
بیٹھا کریں۔




واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات