Pakistan

سوال # 2374

میری داڑھی ہے، یہ تقریبا ڈھائی مشت لمبی ہے، میری فیملی کے کچھ افراد اور آفس کے رفقاء کہتے ہیں کہ یہ اچھی نہیں لگتی ہے، تم کو صرف ایک مشت داڑھی رکھنی چاہئے۔ میراسوال یہ ہے کہ:


(۱) کیا اچھا لگنے کے لیے داڑھی کو چھوٹاکرناجائزہے؟


(۲) کچھ لوگوں کا کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں ایک شخص کی داڑھی چھوٹی کروادیا تھا کیونکہ اس کی داڑھی ایک مشت سے زیادہ تھی ۔ کیا یہ حوا لہ درست ہے؟

Published on: Dec 2, 2007

جواب # 2374

بسم الله الرحمن الرحيم

فتوی: 941/ د= 898/ د


 


(۱) حدیث میں خود آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل منقول ہے: کان یأخذ من اللحیة من طولھا وعرضھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم داڑھی کے نیچے اور اطراف کے حصہ کو چھوٹا کرتے تھے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنی داڑھی مٹھی میں لیتے اورایک مشت سے زائد نیچے کا جو حصہ ہوتا اسے کاٹ دیتے۔ اسی لیے فقہاء نے لکھا ہے کہ ایک مشت سے زائد حصہ کو کاٹ دینا مسنون ہے۔ قال في الہندیة: والقص سنة فیھا وھو أن یقبض الرجل لحیتہ فإن زاد منھا علی قبضة قطعہ کذا ذکرہ محمد رحمہ اللہ في کتاب الآثاراچھی لگنے اور نہ لگنے کی بات نہیں ہے بلکہ جس داڑھی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہٴ کرام نے پسند کیا وہ اچھی ہے اس لیے ایک مشت سے زائد کو کاٹ کر چھوٹا کرسکتے ہیں۔


(۲) یہ حوالہ تو ذہن میں نہیں ہے البتہ حضرت ابن عمر -رضی اللہ عنہ- کا عمل اسی طرح کا حدیث سے ثابت ہے۔


واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات