India

سوال # 158311

حضرت، میرا نام محمد زاہد ہے، میرا ایک دوست تبلیغ جماعت سے جڑا ہوا ہے اس کے چہرہ پر سنتی داڑھی ہے اس کی بیوی چاہتی ہے کہ وہ داڑھی کٹوالے، کیا وہ داڑھی کٹوا سکتا ہے؟
براہ کرم، قرآن و حدیث کی روشنی جواب عنایت فرمائیں۔

Published on: Jan 31, 2018

جواب # 158311

بسم الله الرحمن الرحيم


Fatwa:431-375/SD=5/1439



ڈاڑھی کٹوانا ناجائز ہے ، آپ کے دوست کو بیوی کے کہنے پر ہر گز ڈاڑھی نہیں کٹوانی چاہیے ،ورنہ شریعت کی نظر میں وہ فاسق و فاجر بن جائے گا۔ عن ابن عمر رضی اللّٰہ عنہماقال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم انھکوا الشوارب و اعفوا اللحی۔( البخاری، رقم:۳۹۸۵)أما الأخذ منہا وہی دون ذلک کما یفعلہ بعض المغاربة ومخنثة الرجال، فلم یبحہ أحد۔(رد المحتار:۳/۳۹۸، مطلب فی الأخذ من اللحیة ، زکریا، دیوبند، فتح القدیر: ۲/۳۴۸،کتاب الصوم، باب ما یوجب القضاء، ط: دارالفکر، بیروت) قال الکشمیری: أما تقصیر اللحیة بحیث تصیر قصیرةً من القبضة ، فغیرُ جائز فی المذاہب الأربعة۔ ( العرف الشذی: ۴/۱۶۲، باب ما جاء فی تقلیم الأظفار، ط: دار الفکر، بیروت ) 



واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،
دارالعلوم دیوبند

اس موضوع سے متعلق دیگر سوالات